مصنف: فرحت کیانی
Friday, 26 June, 2009

شیشہ حقہ

برطانیہ میں کسی بھی پبلک پوائنٹ پر سگریٹ پینے کی ممانعت ہے۔ چنانچہ ایسے مقامات پر سگریٹ نوشی کے لئے مخصوص شیڈز بنا دیئے جاتے ہیں جہاں آپ کو لوگ اجتماعی سگریٹ نوشی کرتے ملتے ہیں۔ جو کہ کافی دلچسپ منظر ہوتا ہے :daydream ۔ گھروں میں بھی عموماؐ لوگ محتاط ہی رہتے ہیں۔ ہمارے ایک جاننے والوں کے گھر پاکستان سے ایک انکل آئے۔اکثر شام کو اپنے گھر کے باہر کھڑے سگریٹ پیتے دکھائی دیتے تھے کیونکہ گھر والوں نے انہیں گھر کے اندر سگریٹ پینے کی اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن ہم بھی پاکستانی ہیں ناں تو جہاں تو “قانون” کی اصل والی حکمرانی دکھائی دیتی ہے ہم سے زیادہ بیبا بندہ کوئی نہیں اور جہاں پاکستان کی حدود شروع نہیں ہوئیں سب کچھ بھول گئے۔ اس بار پاکستان آتے ہوئے یہی کچھ ہوا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ابھی سب لوگ سامان کے انتظار میں کھڑے تھے کہ ہر طرف “شام ہے دھواں دھواں” کا سماں پیدا ہو گیا جو کہ اسی فلائٹ سے آنے والے چند انکلز اور بھائیوں کی مہربانی تھی۔ جنہوں نے ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کا بھی انتظار نہیں کیا :-s ۔   

26 جون کو عالمی یومِ انسدادِ منشیات منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے منشیات کی روک تھام اور سدِ باب کے لئےان گنت پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں ہوتا ہے۔ ہیروئن کلچر تو ایک عرصہ پہلے ہی ہمارے ایک عظیم سربراہِ مملکت کی مہربانی سے پاکستان میں قدم جما چکا تھا۔ مزید ترقی یہ ہوئی کہ اب سرنج کے ذریعے منشیات لینے کا طریقہ عام ہو گیا ہے جو ایڈز جیسی مہلک بیماری کی وجہ بھی بن جاتا ہے۔

پچھلےسال اسی دن ایک پاکستانی چینل پر پاکستان میں منشیات کے بارے میں ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اسی پروگرام میں دیگر منشیات کے علاوہ پہلی بار ‘شیشہ’ کے متعلق بھی سنا کہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں شیشہ کے نشے کا رحجان بہت بڑھ گیا ہے۔ انہی دنوں کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر ایک پاکستانی ٹین ایجر کے پروفائل میں بھی شیشہ حقہ کا بطور پسندیدہ مشغلہ ذکر  پڑھا۔ اور یوں میری تحقیق کا آغاز ہوا۔  آج ایک سال بعد یہاں لکھنے کا موقع مل ہی گیا۔

شیشہ ذائقہ دار تمباکو کا نام ہے جو حقے کے ذریعے پیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن شیشہ حقہ کی روایت اب تقریبا دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔  عموما اسے اتنا نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا لیکن تحقیق  بتاتی ہے کہ شیشہ سگریٹ سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے۔ French anti-tobacco agency (OFT)  کے مطابق شیشہ سگریٹ سے کئی  گنا زیادہ کاربن مونو آکسائیڈ اور ٹار پیدا کرتا ہے۔ سگریٹ ہی کی طرح پینے والے کے علاہ اسی ماحول میں موجود دوسرے لوگ بھی اس آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی شیشہ کلچر بطور فیشن پھیل رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر مجھے مصر میں شیشہ کے بارے میں ایک مضمون پڑھنے کو ملا جس میں یہ لکھا تھا کہ نوجوان ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی شیشہ کا نشہ کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے بارے میں ایسا ہی کچھ معلوم ہوا کہ شیشہ پینا پاکستانی نوجوانوں میں کس قدر فروغ پا رہا ہے۔ جس طرح نوجوان نسل میں موبائل فون سٹیٹس سمبل ہے اسی طرح چھوٹا موٹا نشہ کرنا بھی Cool :kool ہونے کی نشانی ہے۔ ایک آرٹیکل اسلام آباد میں جناح سپر، میلوڈی اور ایف ٹین جیسی مارکیٹوں میں شیشہ کی کھلم کھلا فروخت کے بارے میں ملا۔ کراچی کی ایک کافی شاپ کے مینجر کے مطابق  جب سے انہوں نے کافی شاپ کے مینو میں شیشہ کا اضافہ کیا ہے، ان کا بزنس سو فیصد منافع میں جا رہا ہے :huh ۔ شاباش دینے کو دل چاہتا ہے۔ اپنی قوم کو بھی اور اپنے اربابِ اختیار کو بھی جن کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور کوئی روک تھام نہیں۔ یعنی اگر ٹین ایجرز کے سگریٹ خریدنے پر پابندی ہے تو شیشہ بھی تو تمباکو ہے۔ اس پر کوئی پابندی کیوں نہیں؟شایدا ہماری وزارتِ صحت کی ذمہ داری  صرف منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ایک آدھ بیان جاری کر دینے تک محدود ہے۔ اور والدین کی لاپرواہی اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ 

  نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور معاشرے کا انتہائی vulnerable طبقہ بھی۔ جو قومیں اس سرمایے کی حفاظت کا خاطرخواہ بندوبست نہیں کرتیں انہیں روشن مستقبل کی امید بھی نہیں رکھنی چاہئیے۔

:-(

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Sunday, 21 June, 2009

ہم کسی سے کم نہیں!

زندہ باد پاکستان!!! :pak

اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو

فریحہ پرویز، شفقت امانت علی خان

اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

جانا ہے ہمیں وقت کی رفتار سے آگے
سورج کی کرن ہم سے نہ پہلے کبھی جاگے
قُوت کے اخُوت کے جو مضبوط ہوں دھاگے
ٹوٹے نہ کبھی عزم نہ ہمت کبھی کم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

ہر ہاتھ میں اک شمع ہو اور لَو نہ ہو مدھم
دن رات سفر جاری و ساری رہے پیہم
ہرفرد کو ہو ذات سے یہ ملک مقدم
مٹی جو کبھی مانگے دل و جاں تو بہم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم کہ جس میں کہ دم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

ہر اہلِ وطن چاہے وہ دنیا میں کہیں ہو
ملت کی وہ عزت کا، حمیت کا امیں ہو
اللہ پہ، نبی پہ اُسے ایمان و یقیں ہو
اِس مُلکِ خُدادا پہ مولا کا کرم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!

اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

کلام: ریاض الرحمٰن ساغر

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Tuesday, 16 June, 2009

ناسٹلجیا!!

یادش بخیر۔ اس ویڈیو نے کتنے ہی نام یاد کرا دیئے۔

سنگ سنگ چلیں، سہیل رانا، آنگن آنگن تارے، خلیل احمد :)

یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہماری آن اور ہماری عزت ہے اس کا پرچم
ہماری شان اور ہماری شوکت ہے اس کا پرچم
جبیں پہ اس کے یہ چاند تارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

اسے سجا کر ہم اپنی قسمت سنوار دیں گے
دمکتی کرنوں سے اس چمن کو نکھار دیں گے
یہ روشنی کا حسیں مینارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہم اپنی محنت سے اس کو رنگِ بہار دیں گے
جو وقت آیا تو اپنی جانیں بھی وار دیں گے
یہاں کا ہر پُھول، ہر شرارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

کلام: سیما سحر
گلوکار: نیرہ نور اور بچے
موسیقی: خلیل احمد

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Monday, 15 June, 2009

کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

تلاشِ گُم شُدگاں میں نکل چلوں لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

رئیس فروغ

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Wednesday, 10 June, 2009

سہولت اور ضرورت!

آپ جو کوئی بھی ہو پلیز میرے اِس نمبر پر 20 روپے بھیجیں۔ میں ہسپتال میں مصیبت میں ہوں۔ پلیز تم کو اللہ اور رسُول کا واسطہ میرا یقین کرو۔ پلیز 25 روپے پلیز۔
:what :what
میں کسی مشکل میں نہیں ۔ الحمداللہ :) بلکہ پچھلے دنوں جب میں پاکستان میں تھی تو ایک دن ایک انجان نمبر سے یہ پیغام موصول ہوا۔ ظاہر ہے میں حیران بھی ہوئی اور پریشان بھی کہ لوگ کس طرح دوسروں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ اگر اس بندے نے دس لوگوں کو بھی یہ پیغام بھیجا ہو اور ان میں سے صرف دو لوگ ہی جواباً اس کو کریڈٹ بھجواتے ہیں تو ان حضرت کے تو مزے ہو گئے ناں :confused ۔ یقیناً ایسےدرد مند بھی ہوتے ہوں گے جو ایسے ٹیکسٹ کو سچ سمجھ لیتے ہوں۔ میں اس صف میں اس لئے شامل نہیں ہو سکی کہ ایک تو مجھے اس سے ملتی جُلتی ای میلز کا تجربہ تھا اور دوسرا مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ کریڈٹ ٹرانسفر کیسے کرتے ہیں :shy: ۔ بلکہ ابھی بھی نہیں معلوم :hmm: ۔ یہ موبائل کریڈٹ ٹرانسفر کرنے والی ترقی شاید پچھلے کچھ سالوں میں ہوئی ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ کہ بھیجنے والے نے شروع میں 20 روپے لکھا اور آخر میں اس کو 25 کر دیا۔ اب جب موصوف یا موصوفہ کو خود ہی نہیں معلوم کہ ان کو کتنی رقم کی ضرورت ہے تو مدد کیا کی جائے :D بہرحال میں نے اس بات کا ذکر گھر میں کیا تو میری کزن کہنے لگیں کہ یہ بہت عام رویہ ہے۔ لوگ بہت زیادہ ایسے ٹیکسٹ بھیجتے ہیں رینڈم نمبرز پر اور کئی سادہ لوح خصوصاً گھریلو خواتین اس بات کو سچ سمجھتے ہوئے فوراً مدد کو تیار ہو جاتے ہیں۔ :-s
پاکستان میں موبائل فونز کا جیسے سیلاب آ گیا ہے۔ اب اس کا استعمال کیسے کیے جاتا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں۔ آپ بازار چلے جائیں لوگ بازار سے گزر رہے ہیں اور موبائل فون ان کے ہاتھ میں ہے۔ دکانوں میں بیٹھے ہیں تو فون ان کے پاس ہے۔ بظاہر یہ قابلِ اعتراض بات نہیں ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بازار سے گزرنے والی یا دکانوں پر آنے والی خواتین کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور موبائل فون کیمرہ سے ان کی تصویر اتار لی جاتی ہے اور پھر ملٹی میڈیا میسجنگ زندہ باد۔ لمحوں میں یہ تصویریں کہاں سے کہاں گردش کر رہی ہوتی ہیں۔
یہ تو بات ہوئی صارفین کی۔ موبائل کمپنیاں بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ تین ماہ سے زائد عرصہء قیام میں بلا مبالغہ ہر روز کم از کم تین چار ٹیکسٹ میسج مجھے اپنی موبائل فون کمپنی کی طرف سے موصول ہوتے تھے۔ کسی خاص موقع مثلاً ویلنٹائن ڈے پر یہ تعداد بڑھ بھی جاتی ہے۔ روزانہ ملنے والے پیغامات میں کبھی اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو نئے گانے بھیجنے کی ہدایت ہوتی ہے۔ جیسے اگر آپ نے گانا نہ بھیجا تو معلوم نہیں کیا نقصان ہو جائے گا۔ :ohh ویسے اسی بہانے مجھے نئی ہندی فلموں کے نام اور ہٹ گانوں کا تو معلوم ہوتا رہا۔ جنرل نالج میں ٹھیک ٹھاک اضافہ ہوا :daydream ۔ ایسے ہی کبھی love meter کے ذریعے دو لوگوں کے بیچ compatibilty چیک کرنے کو کہا جاتا ہے تو کبھی فون فرینڈشپ کی ترغیب۔ اور یہ ساری باتیں مجھے یہی سوچنے پر مجبور کرتی رہیں کہ کیا ہمارے ہاں کاروباری اخلاقیات بھی کوئی وجود رکھتی ہیں؟ بزنس میں ترقی کے لئے ایسے طریقے استعمال کرنا جس کا براہِ راست اثر افراد کے اخلاق و کردار پر پڑتا ہے کس حد تک درست ہے؟ میرا اندازہ ہے کہ موبائل فون صارفین میں اکثریت نوجوان نسل کی ہے خصوصاً ٹین ایجرز۔ جن کے لئے کسی بات کے مفید یا مُضر ہونے کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ان کے ذہنوں کو ایسی غیر مفید سرگرمیوں کی طرف متوجہ کر دیا جائے تو نتیجہ کیا ہوگا۔ کچھ حیرت کی بات نہیں کہ آج کل بچے تعلیم اور دیگر صحتمندانہ سرگرمیوں کو چھوڑ کر الٹے سیدھے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ موبائل نیٹ ورک بغیر صارف کی اجازت یا سبسکرپشن کے اسے وقت بے وقت فضول قسم کے ٹیکسٹ کیسے بھیج سکتا ہے؟ :qstn لیکن ظاہر ہے یہ ‘ہمارا’ پاکستان ہے۔ ہم جب ، جہاں اور جیسے بھی جو چاہے مرضی کر سکتے ہیں :quiet:
موبائل فون رابطے کو بہت آسان بنا دیتا ہے یہ اس کا فائدہ ہے۔ لیکن مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ الٹے سیدھے کاموں میں اس کا استعمال زیادہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمیں سہولت اور ضرورت میں فرق کرنا نہیں آتا۔ ہم نے ایک سہولت کو ضرورت بنا لیا ہے اور پھر اسے منفی انداز میں استعمال کرنا بھی ہمارا ہی خاصہ ہے۔

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Tuesday, 2 June, 2009

میں نعرہء مستانہ: عابدہ پروین

میں نعرہء مستانہ: عابدہ پروین
کلام: واصف علی واصف

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تجھے آدم نہیں ملتا، خدا کی جستجو کیسی: اسد امانت علی
کلام: ؟؟؟

جہاں بینی کرامت ہے ہماری ، ہم قلندر ہیں
نگاہ ہم سے طلب کر ، کیمیا کی جستجو کیسی

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Sunday, 31 May, 2009

کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہئیے؟

غالباً جیو پاکستان پر ایک پروگرام آتا ہے ‘عالیہ نے پاکستان چھوڑ دیا؟’۔ میں نے پورا پروگرام تو کبھی نہیں دیکھا لیکن ایک دن یونہی چلتے پھرتے ایک دو جھلکیاں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ عالیہ پاکستان چھوڑ کر لندن پہنچ چکی ہیں۔ کیونکہ ایک سین میں وہ بس میں بیٹھی لندن کی سڑکوں سے گزر رہی تھیں۔ اور ایک اور سین میں ایک پاکستانی طالبِ علم سے بات ہو رہی تھی جن کے پاس دلائل کا ایک انبار تھا کہ پاکستان میں کیوں نہیں رہنا چاہئیے۔ ظاہر ہے اگر میں وہاں ہوتی تو میری تو ان بھائی صاحب سے ٹھیک ٹھاک قسم کی بحث ہو جاتی۔ :dont
آپ تعلیم، روزگار یا زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے کہیں بھی جا سکتے ہیں جہاں آپ کو بہتر وسائل میسر ہوں لیکن اگر اس کی قیمت اپنے ہی گھر کو بُرا بھلا کہنا ہے تو اللہ معاف رکھے ایسی ترقی سے۔ حقائق بیان کرنا اور بات ہے لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہماری نظر ہمیشہ منفی پہلوؤں پر ہی کیوں ہوتی ہے؟ اور سب سے بڑی بات اگر آپ صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے تو آپ کو اس بارے میں تنقید کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔
عالیہ نے پاکستان چھوڑ دیا ہے یا ابھی فیصلہ نہیں کیا، یہ تو عالیہ جانے یا جیو والے جانیں۔ یہاں ایک اور پاکستانی کی بات کرنا ہے۔ جو پاکستان واپس جانا چاہتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اسے روک رہے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں زندگی اتنی مشکل ہے اور عقلمندی کا تقاضا کیا ہے، پاکستان سے باہر رہنا یا وطن لوٹنا؟

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Tuesday, 26 May, 2009

سفر در سفر

پچھلے ہفتے پہلی بار آزاد کشمیر جانا ہوا۔ سفر اتنا طویل نہیں تھا لیکن شدید گرمی اور جی ٹی روڈ سے ہٹ کر کسی سڑک پر سفر کرنے کا تصور پہلے ہی تھکن کا احساس دلا رہا تھا۔ بہرحال پانی، کھانے پینے وغیرہ کا ٹھیک ٹھاک بندوبست کیا اور راونہ ہوئے۔ یہ اور بات ہے کہ چھوٹی سڑک جی ٹی روڈ سے بھی زیادہ اچھی حالت میں تھی چنانچہ سفر آرام اور خیریت سے گزر گیا۔ میزبانوں نے اس قدر مہمان نوازی کی کہ مجھے یہ کہنا چاہئیے کہ یہ میری زندگی کی یادگار مہمان نوازیوں میں سے ایک تھی۔ واپسی پر بھی سفر مزے میں گزرا۔ اگرچہ تھکن نہ ہونے کے برابر تھی پھر بھی اپنے گھر کے راستے پر پہنچتے ہہی سکون اور اطمینان کی لہر دل میں دوڑ گئی۔ گھر والوں نے بھی یوں استقبال کیا جیسے ہم لوگ کوئی دشوار گزار راستہ طے کر کے آئے ہیں لہٰذا خوب خاطریں کرائیں اور اگلا پورا دن آرام کرنے میں گزرا۔ ویسے سفر اس لحاظ سے بھی اچھا تھا کہ چھمب جوڑیاں اور افتخار آباد، جہاں 1971ء میں جنرل افتخار کا طیارہ گرا تھا، کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ :)
یہ تو تھی میرے سفر کی داستان۔ اور ایک سفر وہ بھی ہے جو اپنے ہی ملک میں ہجرت پر مجبور اہلیانِ سوات کر رہے ہیں۔ جنہیں سفر پر نکلنے سے پہلے نہ تو اس کی طوالت کا اندازہ ہے اور نہ منزل و عارضی پڑاؤ کی خبر۔ زادِ راہ ساتھ رکھنا تو کجا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ واپسی کب ہوگی یا ہو گی بھی کہ نہیں۔ جو حکومت کے مہمان ہیں لیکن ان کے میزبانوں خود تو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے ہیں اور مہمانوں کو شدید گرمی میں بٹھا چھوڑا ہے۔ اور جن کے ایسے ہموطن بھی ہیں جو مصیبت کی اس گھڑی میں ان کی مدد کرنے کے بجائے اپنے دروازے ان پر بند کر دیتے ہیں۔ اگر ہمارا اپنا یہ حال ہے تو غیروں سے کیا امید رکھنی :quiet:

http://www.daylife.com/photo/043Hdw6aPb4Bz

اور ان مسافروں کی تھکن کا اندازہ کون کر سکتا ہے جو سفر پر نکلنے سے قبل یہ بھی جانتے ہوں کہ جب وہ واپس لوٹیں گے تو ان کے گھرکھنڈرات میں بدل چکے ہوں گے۔ :cry:

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Tuesday, 19 May, 2009

ٹیگ دو دو چار

بہت دن پہلے عمار نے ٹیگ دو اور دو کے سلسلے میں مجھے بھی ٹیگ کیا تھا جس کا مجھ بے خبر کو ایک عرصے تک علم نہیں ہوا :quiet: پھر شگفتہ نے بھی پوسٹ لکھی۔ اس کے بعد کچھ مصروفیت اور کسی حد تک موجودہ حالات کی وجہ سے کچھ بھی لکھنے کا موڈ نہیں ہوا۔ آج ایک پسندیدہ فلم دوبارہ دیکھنے کا اتفاق ہوا تو یہ ٹیگ پوسٹ پھر سے یاد آ گئی۔
مجھے چونکہ دو اور دو چار کرنا نہیں آتا :angelic اس لئے کچھ سوالات میں چار کا ہندسہ نہیں ملے گا۔ :smile

چار جگہیں جہاں میں بار بار جاتی ہوں
یونیورسٹی
لائبریری
سپر مارکیٹ
کچن

چار لوگ جن سے باقاعدہ ملتی ہوں، گھر والوں کے علاوہ
لائبریرین
دوسری لائبریرین :D
ماموں اور ان کی فیملی
دو سہیلیاں (ان کو ایک اس لئے شمار کیا ہے کہ دونوں عموماً اکٹھی پائی جاتی ہیں) :D

کھانے کی پسندیدہ چار جگہیں
لگتا ہے یہ ٹیگ سلسلہ شروع کرنے والے ضرور لاہور سے تعلق رکھتے ہیں تبھی تو ایک نہ دو اکھٹی چار جگہیں پوچھ لی ہیں۔ :smile
گھر میں کچن اور ٹی وی لاؤنج
گھر سے باہر کھانے کا کچھ ایسا شوق نہیں لیکن اگر جانا ہو تو کوئی بھی ‘فش اینڈ چپس’ پوائنٹ
جب ہم لاہور میں تھے تو چمن آئس کریم جانا اچھا لگتا تھا۔

چار جگہیں جہاں میں ہونا چاہوں
پاکستان اپنے گھر میں
لائبریری میں
کینیڈا نیاگرا فال کے کنارے

چار پسندیدہ ٹی وی پروگرام
ٹیلی ویژن تو میں بہت دیکھتی ہوں۔ اور پسندیدہ پروگرامز کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔ لیکن چار لکھنے ہیں تو:

 Live with Talat

Dispatches

Monk

Dad’s Army

Numbers

 

چار فلمیں جو بار بار دیکھنا چاہوں
فلمیں تو کم کم دیکھتی ہوں اور بار بار کا مطلب اگر دو بار سے زیادہ ہے تو ایسی فلموں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ بہرحال:

A Beautiful Mind
نوبل انعام یافتہ ریاضی دان ‘جان نیش‘ کی زندگی پر مبنی یہ فلم میری گنی چُنی پسندیدہ فلموں میں شامل ہے جس کو میں چار، پانچ یا چھ مرتبہ بھی دیکھ لوں۔ :) ۔ خصوصاً اس کا آخری حصہ، جب جان نیش کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سب اپنے اپنے قلم ان کی میز پر رکھتے ہیں اور تقریب میں جان نیش کی تقریر۔ پھر نیش کو چارلس، مارسی اور پارچر کا دکھائی دینا۔

2.The Terminal

The Princess Diaries

Pirates of the Caribbean: The Legend of Jack Sparrow

یقیناً یہ ٹیگ کھیل ختم ہو چکا ہو گا اب تک ۔ میں کس کو ٹیگ کروں۔ زین بھی لکھ چکے شاید :quiet:
تانیہ رحمان نے اگر ابھی تک کچھ نہیں لکھا اس بارے میں تو اب اوور ٹو یو تانیہ :smile

Share/Save/Bookmark

مصنف: فرحت کیانی
Friday, 1 May, 2009

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک!!!

ان  جفاکش ہاتھوں کے نام جن کی سلامتی مجھ سمیت بہت سوں کی تن آسانی کی ضمانت ہے۔

اور سب سے بڑھ کر ہماری کپڑے دھونے والی ماسی کے نام جن کی علالت کے سبب آج مجھے احساس ہوا کہ ‘کر کے کھانی بڑی اوکھی اے’ :blush: :uff

شورشِ بربط و نَے

دوسری آواز

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک، اس خوں میں حرارت ہے جب تک
اس دل میں صداقت ہے جب تک، اس نطق میں طاقت ہے جب تک
ان طوقِ سلاسل کو ہم تم، سکھلائیں گے شورشِ بربط و نَے
وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامۂ طبلِ قیصر و کَے
آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھر پور خزینہ ہمت کا
اک عمر ہے اپنی ہر ساعت، اِمروز ہے اپنا ہر فردا
یہ شام و سحر یہ شمس و قمر، یہ اختر و کوکب اپنے ہیں
یہ لوح قلم، یہ طبل و علم، یہ مال و حشم سب اپنے ہیں

کلام: فیض احمد فیض
گلوکارہ: نیرہ نور

Share/Save/Bookmark