یومِ مئی پر ایک پیغام موصول ہوا۔
‘کتنی عجیب بات ہے کہ جو آٹے کی بوری خرید سکتے ہیں وہ اُٹھا نہیں سکتے اور جو اُٹھا سکتے ہیں وہ خرید نہیں سکتے۔’
نہیں نہ تو میرا وفاقی یا صوبائی کابینہ میں اعلیٰ عہدے پر تقرر ہو گیا ہے کہ دوروں پر روانہ ہو جاؤں اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے جلسے جلوسوں والے ‘طوفانی’ دورے شروع کئے ہیں۔ بس گزشتہ روز چکوال جانے کا اتفاق ہوا جسے میں نے دورۂ چکوال کا نام دے دیا۔ دورانِ سفر بہت سے دلچسپ چیزیں مشاہدے میں آئیں۔
پہلی یہ کہ جی۔ٹی۔روڈ سے چکوال کے لئے لنک روڈ پر مڑتے ہی عمارتوں کی دیواروں پر جلی حروف میں ‘ہم راجہ پرویز اشرف تو اہم وفاقی وزارت ملنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں’ کے پیغامات لکھے نظر آئے۔ اور اگر میں یہ کہوں کہ دونوں اطراف پر ہر دوسری دیوار پر یہ پیغام لکھا ہوا ہے تو اس میں ہر گز مبالغہ نہیں ہو گا۔ مجھے سفر کبھی بھی فاصلے کے حساب سے یاد نہیں رہتا لیکن ہماری منزل چکوال کے مین شہر سے کچھ پہلے تھی اور سیدھی سڑک پر ہمیں وہاں پہنچتے تقریباؐ ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ اور اس ڈیڑھ گھنٹے کے دوران یہ پیغام ہر دوسری دیوار پر لکھا دکھائی دیا۔ اور کہیں کہیں بینرز بھی نظر آئے۔ اللہ ہماری قوم کو ہدایت دیں۔ جہاں مبارکباد دینے کا موقع ہوتا ہے یا جو واقعی اس کے مستحق ہوتے ہیں انہیں معتوب قرار دے دیا جاتا ہے اور جو اداروں اور نظام کا بیڑہ ڈبو دیتے ہیں ان پر مبارک سلامت کے ڈونگرے برسا ددیتے ہیں اور پھر ملکی حالات و واقعات پر رونا دھونا بھی فُل ٹائم جاری رہتا ہے۔ اسی لئے میں اپنی قوم اور اپنے لئے میں ہمیشہ یہ کہتی ہوں۔
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
خیر اگلا مشاہدہ یہ تھا کہ اس تمام راستے میں اتنے زیادہ سکول دیکھے کہ ابھی تک میری حیرانگی ختم نہیں ہو رہی۔ سڑک کے ساتھ ساتھ سرکاری اور غیرسرکاری ہر طرح کے سکولوں کی بھرمار ہے۔ صبح صبح اتنے زیادہ بچے پیدل اور گاڑیوں پر دیکھ کر میں نے اپنی روایتی قومی جذباتی پن سے کام لیتے ہوئے چکوال اور پھر پاکستان کی شرح خواندگی کو 100 فیصد سے بھی زیادہ قرار دے دیا۔
سکولوں خصوصاً پرائیویٹ سکولوں کی مشرومنگ تو ماشاءاللہ ہر شہر میں
ایسی ہی ہے اور جس کے پاس کوئی ڈگری یا ہنر نہیں ہے یا کوئی کام نہیں ہے لیکن تھوڑا بہت سرمایہ بھی ہے، دو کمروں کا مکان کرایے پر لیکر ایک سکول کھول لیتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ اپنا مکان کئی منزلہ بنا لیتا ہے ‘ھذا من فضل ربی’ کی تختی لگا کر۔ جو بات مجھے دلچسپ لگی وہ ان سکولوں کے نام تھے۔
برائٹ پبلک سکول
ریڈینٹ ہاؤس سکول
تعمیرِ ملت پبلک سکول
انٹرنیشنل سکول سسٹم
اکیڈمی آف سائنس اینڈٖ ریسرچ (اور یہ سکول واقعتاؐ دو کمروں پر مشتمل تھا جہاں کوئی دیوار کوئی صحن کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا)
دا برینز سکول اینڈ کالج
برائٹ روز سکول
ڈیفوڈلز سکول
ینگ سکالرز سکول سسٹم
دی ایجوکیٹرز
دا سٹی سکول سسٹم
بیکن ہاؤس سکول سسٹم
بحریہ فاؤنڈیشن
اف۔۔اس کے علاوہ بھی بہت سے۔ لیکن اب نام یاد نہیں آ رہے۔ کیونکہ جاتے ہوئے صبح جلدی نکلے تھے تو میں آدھی سوئی ہوئی تھی اور آتے ہوئے تھکی ہوئی تھی کہ نوٹس نہیں لے سکی اور نہ تصویریں۔
تیسری اہم بات ایک باہمت و بہادر خاتون سے ملاقات تھی۔ انتہائی خوبصورت لہجے میں بولنے والی یہ خاتون دکھنے میں بھی اتنی ہی اچھی لگ رہی تھیں۔ اور جب تک انہوں نے خود نہیں بتایا۔ مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ان کا ایک بازو کندھے سے کٹا ہوا ہے۔ انہوں نے دوپٹہ اس طرح اوڑھ رکھا تھا کہ بازو کا نہ ہونا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ بہرحال یہ خاتون ایک کامیاب خاتونِ خانہ بھی ہیں اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی اتنی ہی کامیاب ہیں۔
یہ خاتون 2005ء کے زلزلے میں آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد میں پڑھتی تھیں۔ زلزلے میں ان کے ہاسٹل کی عمارت منہدم ہوئی تو یہ اٹھائیس گھنٹے ملبے کے نیچے دبی رہیں۔ باہر نکالنے کے بعد جب انہیں راولپنڈی شفٹ کیا گیا تو ان کے بازو کے ٹشوز میں اس بری طرح ٹوٹ پھوٹ ہو چکی تھی کہ بازو کاٹ دیا گیا۔ کچھ دنوں بعد پشت کی سائیڈ سے پیپ رسنے لگی اور مزید ٹیسٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کی دو پسلیاں بھی ٹوٹ چکی تھیں اور اندورنی طور پر زخم اس طرح خراب ہو رہے تھے کہ میجر سرجری کے بغیر کچھ کرنا ناممکن تھا۔ پیٹ اور پشت دونوں طرف سے سرجری کی گئی۔ اور اب ان کے جسم کے پچاس فیصد سے بھی زیادہ حصے پر آپریشن کے ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر جاب بھی شروع کر دی۔ 2009ء میں ان کو مصنوعی بازو لگایا گیا لیکن وہ اس کو استعمال میں لاتے ہوئے جب بہت زیادہ کام کرنے لگیں تو اس کا اثر پھر پشت کے مسلز پر پڑا اور وہ پھٹنے لگے۔ سو اب وہ اس بازو کو استعمال نہیں کرتیں۔ ان کی شادی ایک بہت اچھے اور سلجھے ہوئے آدمی سے ہوئی جنہوں نے ان کی معذوری کو ان کے لئے طعنہ نہیں بنایا اور اب یہ خاتون اپنا گھر خود سنبھال رہی ہیں اور ساتھ ساتھ قائدِ اعظم یونیورسٹی سے ایم فل میں داخلے کی فہرست لگنے کی منتظر ہیں۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو مختصر سی ملاقات میں بھی آپ کو متاثر کر جاتے ہیں اور ہھر ان کا خیال اور ان کی مثال ذہن میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ میرے لئے یہ خاتون بھی ایسی ہی ایک مثال تھیں۔ جنہوں نے ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہا کہ ‘میں ہی کیوں’ یا ‘مجھے بہت مشکل یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔’ مسکرتے لبوں اور نم آنکھوں والی یہ مثال مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح حوصلہ و ہمت عطا کرتے رہیں اور وہ زندگی میں یونہی کامیابیاں سمیٹتی رہیں۔ ثمَ آمین
ٹرن ٹرن ٹرن فون بجا۔
میں: السلام علیکم
میری کزن: وعلیکم السلام۔ عبداللہ کی سالگرہ جمعہ کو مغرب کے بعد ہے۔ سب لوگ وقت پر پہنچ جانا۔’
میں: لیکن سالگرہ تو ہفتہ والے دن بنتی ہے۔’
کزن: ہے تو ہفتے کو ہی۔ لیکن کیونکہ شام کو ہی سب آ سکتے ہیں اور ہفتہ ہی کو ہمسفر کی آخری قسط آ رہی ہے۔ تو بہتر سمجھا جمعہ رکھ لیں۔ ورنہ پھر اتوار کو انتظام کرنا ہو گا۔’
کچھ مزید۔۔۔۔
فون پر ٹیکسٹ میسج کی بیپ آئی۔
“پڑوس کا بچہ: ‘انکل! یہ لیں مٹھائی، امی اور باجی نے بھیجی ہے۔’
انکل: ‘اللہ مبارک کرے۔ کس خوشی میں بھیجی ہے؟’
بچہ: وہ ہمسفر میں اشعر کو سب سچ پتہ چل گیا۔”
اسی طرز کے کئی پیغامات میرے فون کے ان باکس میں موجود ہیں۔
میری کزن جو اسی سال انٹر میں گئی ہے ، ایک دن مجھے کہنے لگی اگر آپ کے پاس ‘وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی’ والی غزل ہے تو مجھے ابھی بھیجیں۔ میں اگرچہ حیران ہوئی کہ ہپ ہاپ میوزک کی شوقین کا ذوق ایک دم سے اتنا تندیل کیسے ہو سکتا ہے۔ خیر فائل ٹرانسفر ہونے کے بعد اس نے غزل چیک کی۔ پھر بہت ناراض انداز میں بولی۔ ‘ میں نے آپ سے یہ بور غزل نہیں مانگی تھی۔ کیو بی والی غزل کی بات کی تھی۔ ابھی میں اسے اپنی پسندیدہ گلوکارہ عابدہ پروین اور میری، دونوں کی شان میں گستاخی کی سنگین غلطی پر جھاڑ پلانے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اس نے پوچھا۔ آپ ہمسفر ڈرامہ نہیں دیکھتیں؟ میرے نفی میں جواب پر اس کی آنکھیں اور منہ بیک وقت اس طرح کھلے
کہ مجھے وہی صدیوں کا گھسا پٹا مکھی والا جملہ بولنا پڑا۔ خیر اس کے بعد مجھے ڈرامہ کی کہانی سنائی گئی اور وعدہ لیا گیا کہ میں یہ ڈرامہ ضرور دیکھوں گی۔
سو ایک ویک اینڈ پر میں بھی دیگر متاثرین کے ساتھ بیٹھ گئی کہ طعنوں سے بچت تو ممکن ہو۔ ہر دفعہ وقفہ ہونے پر ڈرامہ کی پنکھیاں مجھے اس قدر داد طلب نظروں سے دیکھتیں جیسے ڈرامہ انہوں نے ہی بنایا ہو۔ خیر میرے خیال میں (جسے سب نے اتفاقِ رائے سے نامعقول خیال قرار دے دیا)، ڈرامہ کی پروڈکشن واقعی بہت اچھی تھی لیکن کہانی کچھ زیادہ ہی روایتی ہو گئی۔ اور مزید یہ کہ ڈرامہ کا نام ہمسفر کے بجائے ‘بے انتہا؛ یا ‘لا انتہا’ ہونا چاہئیے تھا۔ کیونکہ جو قسط میں نے دیکھی اس میں خرد مظلومیت کی انتہا پر تھی۔ 45 منٹ کے ڈرامے میں خرد نے آنسوؤں کی ان گنت بالٹیاں، ٹب بلکہ ٹینک بہا دیئے۔ پھر ہیرو یعنی اشعر صاحب انتہا درجے کے بے خبر۔ نہ انہیں اپنی بیگم کے حالات کی خبر ہے اور نہ ہی کزن کے خیالات کی۔ نہ اماں جان اور خالہ جان کی سیاستوں کی خبر ہے۔ حد ہے بھئی۔ اب سارہ کی باری آئی۔ انتہا درجے کی شدت پسندی۔ سو میرے مطابق اس ڈرامہ کا نام ہمسفر تو ہر گز نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ اگرچہ اپنے اس اظہارِ خیال کے بعد مجھے بہت سی خونخوار نظروں کا سامنا کرنا پڑا
اور آخر میں یہ فیصلہ بھی سننا پڑا کہ آپ آئندہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر یہ ڈرامہ نہیں دیکھیں گی۔ جس پر میں تب سے بہت سعادتمندی سے عمل کر رہی ہوں کہ پھر مجھے کسی نے اس بارے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ 
تفنن بر طرف میں نے گزشتہ چار پانچ سالوں میں پی ٹی وی کے سنہری دور کے ڈرامے دیکھے ہیں شاید اسی لئے مجھے اب والے ڈراموں میں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے۔لیکن ڈرامہ کی پروڈکشن مجھے واقعی اچھی لگی۔ سرمد سلطان کھوسٹ کے کریڈٹ پر ایک کامیاب ڈرامہ آ گیا۔ قرۃ العین بلوچ نے غزل بہت اچھی طرح گائی ہے۔ رائٹر سنا ہے خواتین کے رسالوں کی کافی معروف مصنفہ ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب اکثر لوگ پھر پاکستانی ڈرامہ کی ریواول کی بات کرتے ملتے ہیں۔ اگر اس میں کچھ مقصدیت بھی شامل ہو جائے تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہو گی۔ 
اب میرے خیال میں شاید رات اس ڈرامہ کی آخری قسط نشر ہو چکی ہے۔ تو پاکستانی قوم کا یہ جنون بھی ختم ہو جائے گا۔ میں یہ پوسٹ نہ لکھتی لیکن اس سلسلے میں پیش آنے والا آخری واقعہ نے مجبور کر دیا۔ میری ایک سہیلی کے کالج میں پچھلے ہفتے سٹوڈنٹس الیکشنز ہو رہے تھے۔ اس میں ایک امیدوار کے پوسٹر نے مجھے پھر اس ڈرامہ کی یاد دلا دی۔

اب اس کے بعد مزید کیا لکھا جائے۔ صرف یہ کہ متاثرین ہمسفر کو مبارکباد کہ ‘اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے’ والا انجام ہوا۔
مجھے بھی مبارکباد کہ اب اگر میں کسی کو ہفتے شام میں ملنے یا فون پر بات کا ارادہ کروں گی تو یہ خدشہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہوں گی۔ 
اور الیکشن امیدوار سے اظہارِ افسوس کہ سنا ہے وہ کل کے الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
لگتا ہے ان کے ووٹرز بھی کنوینس نہیں ہو سکے
آج ہمارا ٹی کیفے والے چاچا کافی دینے آئے تو گیس کی لوڈشیڈنگ اور قیمت بڑھنے، سی این جی والوں کی ہڑتال، اور گزشتہ دو دنوں سے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے بارے میں بتانے لگے۔ بات کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ اوپر والوں اور اختیار رکھنے والوں کو الزام دیتے ہیں جو کسی حد تک تو درست ہے لیکن ہم اپنی ذاتی اور انفرادی حیثیت میں بھی تو اپنے فرائض کی بجاآوری میں کوتاہی کرتے ہیں۔ جب بجلی اور گیس قسمت سے ہمیں بغیر تعطل کے ملتی ہے تو اکثریت اسے انتہائی لاپرواہی سے استعمال کرتی ہے۔ بات سے بات نکلی تو کسی نے کہا کہ ہم جن لوگوں میں رہتے ہیں یا جن کے ساتھ کام کرتے ہیں ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور وہ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ سو ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ دوسروں سے سیکھیں بھی اور انہیں اچھی بات بتائیں بھی۔ اس بات پر ان چاچا نے دو بہت اچھی باتیں سنائیں۔
(یہ صاحب سابق فوجی ہیں اور بہت سے بڑے افسروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب میں ایک جنرل صاحب اور ان کے خاندان سے سیکھے گئے سبق کو کبھی نہیں بھول سکتے۔)
1۔ “فوج میں کام کرتے ہوئے میں نے کافی عرصہ ایک جنرل صاحب کے گھر کام کیا۔ جنرل صاحب کی بیگم صاحبہ نے مجھے کبھی نہیں ٹوکا اور نہ ڈانٹا سوائے ایک موقعے کے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں اکثر کچن یا کسی کمرے سے نکلتے ہوئے بتی جلتی ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ تو انہوں نے ایک دن مجھے بلا کر کہا ‘یہ جو بجلی ہم جلا رہے ہیں اس کی ادائیگی ہماری جیب سے نہیں بلکہ عوام کے پیسوں سے ہوتی ہے۔ اگر ہم یوں ہی بجلی ضائع کرتے رہے تو ہمیں تو شاید فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن ان لوگوں کے لئے بہت مشکل ہو جائے گی۔اور اس کے ذمہ داروں میں میں اور تم بھی شامل ہوں گے۔’
چاچا کا کہنا تھا کہ وہ 20 سال پہلے ملا یہ سبق آج تک خود بھی نہیں بھولے اور دوسروں کو بھی اسی بھولنے نہیں دیتے۔
دوسری بات: “میں سگریٹ بہت پیا کرتا تھا۔ ایک دن جنرل صاحب کے بیٹے نے، جو اس وقت 10-12 سال کا ہوگا، مجھے کو سگریٹ پیتے دیکھا۔ جب میں سگریٹ ختم کر چکا تو اس نے پوچھا۔ ‘صاب۔ آپ کے پاس ایک روپیہ ہے؟’۔ میں جواب دیا کہ ہے تو اس نے مجھے پیسے نکالنے کو کہا۔ پھر اس نے مجھ سے ماچس مانگی جو میں نے دے دی۔ بچے نے تیلی جلائی اور میرے ہاتھ میں پکڑے نوٹ کو آگ لگانے لگا۔ میں نے فورا ہاتھ پیچھے کیا اور کہا ‘یہ کیا کر رہے ہیں پیسے جلا رہے ہیں۔ ضائع ہو جائے گا۔’ اس پر وہ بچہ بولا۔ جو آپ سگریٹ پی رہے ہیں وہ بھی تو آپ اپنا پیسہ جلا رہے ہیں۔’ ۔ بچے کی بات نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے اس دن کے بعد سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے جس طرح سمجھایا شاید میں کبھی بھی سمجھ نہ سکتا۔”
میں یہ بات کسی اور سے سنتی تو اسے مبالغہ آرائی سمجھتی (کیونکہ بڑے افسران چاہے وہ کسی بھی ادارے سے ہوں، ایسی سلجھی ہوئی سوچ کم ہی دیکھنے میں آتی ہے)، لیکن آج کی گفتگو کے بعد میرا یقین ایک بار پھر اس بات پر پختہ ہو گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی کوشش کسی کی زندگی میں بہت بڑی مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور ہم کسی بھی وقت کسی سے بھی کوئی اچھی بات سیکھ سیکھتے ہیں قطع نظر ان کی عمر، مرتبے اور حیثیت کے۔ چاچا کو ان کی مالکن اور ایک بچے نے جو سکھایا وہ میں نے ان سے سیکھا اور اب مجھے چاہئیے کہ اس پر عمل بھی کروں اور دوسروں کو بھی بتاؤں۔
پچھلے ہفتے کی بات ہے معلوم ہوا طلباء نے انٹر کے نتیجے میں تاخیر کے خلاف مظاہرہ کیا اور راولپنڈی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی عمارت میں توڑپھوڑ کی اور آگ بھی لگائی۔ اسی موضوع پر گفتگو کے دوران میری رائے یہی تھی کہ یقیناً بچے بہت پریشان ہیں اور مایوس بھی لیکن توڑ پھوڑ کرنے اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے مسئلہ حل تو نہیں ہو گا۔ بلکہ ایسے نقصان کی قیمت پوری قوم کو ٹیکسوں کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔ ہم ہر مسئلے کا حل تشدد سے نکالنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ تحمل ہماری زندگی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن کل مجھے ایک میٹنگ میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا جہاں سے آنے کے بعد میں بہت کنفیوز ہو چکی ہوں۔ اس میٹنگ میں ماہرینِ تعلیم، کچھ سکولوں اور کالجوں کے پرنسپلز اور اساتذہ شامل تھے۔ گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور طلباء کی امتحان اور عملی زندگی میں ناکامی پر بات ہو رہی تھی کہ ایک پرنسپل صاحب اپنا تجربہ بیان کرنے لگے۔ ان کے مطابق ان کے سکول کا میٹرک کا نتیجہ بہت خراب رہا اور ایسے بچے بھی فیل ہوئے یا بہت کم نمبروں پر پاس ہوئے جو بہت اچھے اور قابل طلباء میں شامل کئے جاتے تھے۔ چنانچہ پرنسپل صاحب کے کنٹرولرامتحانات(یہ راولپنڈی بورڈ کی بات ہو رہی ہے( سے رابطہ کیا اور پیپرز کی ری-چیکنگ کی بات کی۔ ری-چیکنگ کے دوران کیا کیا باتیں معلوم ہوئیں۔
1۔ اکثر بچوں کی فائل میں ان کے پیپرز کے بجائے کسی اور کے پیپرز لگائے گئے ہیں اور ان پر مارکنگ کی گئی ہے۔ ایک انگریزی میڈیم بچے کی فائل میں ایک اردو میڈیم بچے کا پیپر پڑا ہے اور اس کے نمبر بچے کے رزلٹ کارڈ پر لکھے گئے ہیں جبکہ اسی فائل میں اس بچے کا اپنا پرچہ بھی موجود ہے۔
2۔ اکثر جوابات بغیر چیک کئے کاٹے گئے ہیں اور ان کا کوئی نمبر نہیں لگایا گیا۔ کچھ پیپرز میں پورے کا پورا معروضی یا تفصیلی سوالات والا حصہ کاٹ دیا گیا ہے۔ اور بقول ان پرنسپل صاحب کہ جس انداز سے پرچے پر کراس لگائے گئے ہیں اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی پرائمری جماعت کے بچے نے پیپر چیک کیا ہے۔ واللہ اعلم
3۔ بہت سے بچوں کی فائلز میں پرچے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ چنانچہ ان کو دو طرح کی چوائس دی گئی ہت۔ ایک یہ کہ ان کے دوسرے پرچوں کو دیکھ کر اوسط نمبر دے دیے جائیں یا پھر وہ دوبارہ امتحان دیں۔
4۔ ٹوٹل کرتے ہوئے کئی جوابات کے نمبر شامل ہی نہیں کئے گئے یہاں تک کہ ایک بچے کے پرچے کے ٹوٹل میں پورے 43 نمبروں کو فرق آیا۔
ایک صاحب نے یہ بات کی تو باقیوں نے بھی اس کی تائید کی۔ ایک خاتون پرنسپل کے مطابق ان کی ایک بچی کو امتحان میں غیر حاضر دکھا دیا گیا جبکہ وہ اس بچی کو ذاتی طور پر جانتی ہیں اور سنٹر بھی ان کا اپنا سکول ہی تھا۔
زیادہ تر سکولوں میں بچے ان گھروں سے آتے ہیں جو دوبارہ پرچے چیک کروانے کی فیس نہیں دے سکتے۔ ایک پیپر کی فیس 600 روپے ہے جبکہ اس میں دیگر اخراجات ملا کر 1000 روپوں تک خرچہ بن جاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی دفتر میں جا کر بھی آپ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں سو بہت سوں کو اگلے دن یا اگلے ہفتے آنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ شاید اسی پریشر سے بچنے کے لئے پنڈی بورڈ نے رزلٹ پر نظرِثانی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ایسی صورتحال کے ردِ عمل میں لوگ واقعی کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ کم از کم میں کچھ بھی رائے دینے سے قاصر ہوں کہ کیا کرنا چاہئیے۔ مجھے کل سے یہ سوال بھی پریشان کر رہا ہے کہ ایسے حالات میں بڑے ہونے والے بچے جب عملی زندگی میں آئیں گے تو کیا ایمانداری، خلوص، تحمل اور ذمہ داری ان کے کردار کا حصہ ہو گی؟
میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی۔ تصور خانم
میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی
زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی
میری غیور امنگو! شباب فانی ہے
غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی
میرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات
اُداس نقش گرو اب مجھے نکھارو بھی
بھٹک رہا ہے دھندلکوں میں کاروانِ حیات
بس اب خدا کے لئے کاکُلیں سنوارو بھی
سب کو بہت بہت عید مبارک۔ میری عید آج ختم ہو رہی ہے کیونکہ آج آخری چھٹی تھی۔ کل سے پھر واپس کام کام اور کام :( ۔۔۔ بلاگ سے بہت دنوں سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے۔ حالانکہ اتنا کچھ ہے بولنے اور لکھنے کو۔ لیکن اس وقت تو اپنے انکل گیلانی کی شان میں کچھ کہنا ہے۔ شاہد ہمارے حمکرانوں کے نصیب میں عوام کی بدعائیں اور آہیں سننا ہی رہ گیا ہے اور یہ ان کا من پسند مشغلہ بھی ہے۔ تبھی تو وقتاً فوقتاً وہ عوام کو اس کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ محترم وزیرِ اعظم صاحب نے کیا۔ سوچا ہو گا عوام بور نہ ہو گئے ہوں۔ تو چلو کچھ کرتے ہیں۔ نکل پڑے جمعتہ الوداع کی نماز ادا کرنے۔ اب پبلک کو یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ دیکھو ہم بھی نماز پڑھنے جا رہے ہیں سو اپنے راستے پر ہٹو بچو کا نعرہ لگانے والوں کو مقرر کر دیا۔ پھر وزیرِ اعظم ‘لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا’ کے مصداق موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے جھرمٹ میں جانبِ مسجد روانہ ہوئے۔لوگ ذیرو پوائینٹ سے فیصل مسجد تک پیدل چلتے پہنچے تو معلوم ہوا کہ اندر جانے اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ انکل گیلانی اینڈ کو مسجد میں جلوہ افروز ہیں۔ اس دوران باقی سب عوام کی جمعے کی نماز مس کو گئی تو کیا ہوا۔ عوام کی زندگیوں سے پہلے بھی تو بہت کچھ مس ہے۔ ان کو کون سا کوئی فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی ہر اچھے موقعے سے فائدہ اٹھانے کا پہلا حق حکمرانوں کو ہوتا ہے تو جمعتہ الوداع کی نماز کا ثواب وہ بھی فیصل مسجد میں بھی تو صرف انہی کو حاصل کرنا ہے۔
اب اس انتہائی ‘خاص’ طبقے سے ذرا کم لیکن عوام سے خاص طبقے کی ایک اور آنکھوں دیکھی مثال۔ ہفتہ 28 اگست ، 26 رمضان کی بات ہے۔ راولپنڈی سے جی ٹی روڈ کی طرف سفر کرتے ہوئے مندرہ ٹول پلازہ کے پاس پہنچے تو لین میں آگے تین گاڑیاں تھیں۔ جن میں سے سب سے اگلی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر سبز رنگ سے ایم این اے لکھا ہوا تھا۔ جب کافی دیر وہ گاڑی ٹول ٹیکس کیبن سے آگے نہیں چلی تو سب کو تشویش ہوئی۔ معلوم ہوا کہ گاڑی والے موصوف اس بنا پر ٹول ٹیکس دینے سے انکاری تھے کہ وہ کسی ایم این اے کے رشتہ دار ہیں۔ ۔ ٹول ٹیکس جمع کرنے والا بھی بضد تھا کہ ٹیکس ادا کرو ورنہ کھڑے رہو اور پچھلی گاڑیاب بھی کھڑی رہیں گی۔ جب اس سارے جھگڑے میں کافی وقت گزر گیا تو اس گاڑی سے پیچھے والی گاڑی سے ایک صاحب اترے اور انہوں نے ان حضرت کے 20 روپے ادا کر دیئے۔ یوں راستہ کُھلا اور ان محترم نے بغیر شرمندہ ہوئے گاڑی سٹارٹ کی۔ پیپسی کا کین (رمضان میں( باہر اُچھالا اور یہ جا وہ جا۔
تیسری مثال خود اپنے لوگوں یعنی عام عوام کی۔ مارکیٹ سے گزرتے ہوئے پھلوں کے سٹال پر چیریز دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ مجھے پاکستان میں گروسری کا اتنا تجربہ نہیں ہے۔ اس لئے انکل سے پوچھا کہ کیا وہ اس میں سے آدھی دیں گے۔ انکل موصوف نے اپنے نماز والی ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے کہا۔ نہیں بیٹا۔ یہ تو پورا ڈبہ ہی بیچتے ہیں۔ بالکل تازہ ہیں اور ڈھائی سو میں ہے۔ مجبوراً لے لیا۔ واپس پہنچ کر جب چیریز دھونے کے لئے ڈبے سے نکالیں تو اوپر والی تہہ تو تازہ تھی۔ نچلی ساری تہیں گلی ہوئی تھیں۔ افسوس ہوا لیکن حیرانگی نہیں کیونکہ تھوڑا بہت دھوکہ کرنا ہم لوگوں کی قومی عادت بن چکا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے لیول پر بے ایمانی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں چاپے عوام ہوں یا خواص۔
خبروں میں دیکھنا اور سُننا اصل صورتحال کا حصہ ہونے سے بہت مختلف ہے۔ پچھلے ایک ہفتے میں ایسی ہی کیفیت سے بارہا سامنا ہوا۔ سفر کا آغاز خدشوں اور خوف سے ہُوا لیکن اختتام دل میں امیدوں کے نئے چراغ جلا گیا۔ ہنگو ٹل روڈ پر ہونے والے دھماکے سے کچھ پہلے ہم لوگوں کا گزر بھی وہیں سے ہوا تھا۔ لیکن ابھی زندگی باقی تھی تو بخیریت واپسی ہو گئی۔ راولپنڈی سے ٹل، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ کے سفر کے دوران سب سے زیادہ سٹرنگز کے اس دل چُھو لینے والی ویڈیو نے بہت ساتھ دیا۔ امید تو ہے کہ میں بھی دیکھوں گی جب ایسا ہو گا پاکستان
انشاءاللہ
Just lovin’ this video
آڈیو:
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
میں تو دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
جب رنگ برنگے جھنڈے
ایک پرچم میں گُھل جائیں گے
اور اِدھر اُدھر کو جاتے رستے
اک موڑ پہ مل جائیں گے
جب بچے ملک پہ راج کریں
اور سکول میں بیٹھے ہوں سیاستدان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
جب ملک کو بیچ کے کھانے والے
خود ہضم ہو جائیں گے
اور پشتوں سے جو گدی بیٹھے
سب بھیڑ میں مل جائیں گے
جو دُور گئے تھے بُھولے سے
لوٹیں گے پھر وطن کو ایک شام
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
کلام: بلال مقصود
آواز: فیصل کپاڈیہ
موسیقی: سٹرنگز
کل ھنگو سے گزر کر ٹل یا تھل جانے کا موقع ملا. سفر کا آغاز ڈرتے ڈرتے ھوا لیکن بھت اچھا رھا دن. بھادر، مصیبت ذدھ پھر بھی خوش مزاج لوگ.
ابھی کوھاٹ ھیں لیکن باھر جانے پر پابندی ھے. لیپ ٹاپ نھیں ھے سوچا بڑوں چھوٹوں سب سے دعا کی درخواست کی جاۓ. بشرط خیریت واپسی روداد سفر بھی لکھوں گی.
دعاؤں میں یاد رکھیں.
بلاگ پر خوش آمدید بلال. آپکے تبصرے کا جواب واپسی پر انشاۂاللۂ. ابھی موبائل سے مشکل ھو رھی ھے.
اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو رحمان ملک انکل نے کبھی کہا تھا کہ اگر اسامہ بن لادن پاکستان سے برآمد ہوا تو وہ اپنی ناک کٹوا دیں گے۔ انہیں کون یاد کروائے گا ان کا وعدہ؟
اور اگر میں پھر غلطی پر نہیں ہوں تو ہنگامی ایکشن کا مطلب فوری ایکشن کرنا ہے تو اپنے انکل کیانی نے اسامہ کی امریکی بھائیوں کے ہاتھوں ملکِ عدم راونگی (وہ بھی عین فوجی علاقے سے) کے 4 دن بعد کور کمانڈرز کی ‘ہنگامی کانفرنس’ کیوں بلائی ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے گا ہنگامی کا مفمہوم؟




حالیہ تبصرے