ابھی لائبریری کی دوسری منزل پر بیٹھے مجھے اس عمارت کا ایک حصہ اور اس کے سامنے کی سڑک سنسان و ویران دکھائی دے رہی ہے جہاں گزشتہ شام قیامت کا سماں تھا۔ اس وقت سڑک کنارے پولیس اور فوج کے علاوہ دنیا ٹی وی کی گاڑی کھڑی دکھائی دے رہی ہے جس کو آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔ اور میرے کانوں میں ابھی تک سائرن کی آوازیں اور لڑکیوں کی چیخ و پکار گونج رہی ہے۔ یہ لڑکیوں کا ایک نجی ہاسٹل ہے جہاں راولپنڈی کے مختلف کالجوں اور یونیورٹیوں میں زیرِ تعلیم طالبات رہائش پذیر تھیں۔ جن میں نہ صرف راولپنڈی بلکہ اسلام آباد جیسے پڑوسی شہر سے لیکر گلگت ، سکرود جیسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات شامل ہیں۔ اس عمارت میں گزشتہ سہ پہر اچانک آگ بھڑک آٹھی جس میں ہاسٹل انتظامیہ کے مطابق چھ طالبات جاں بحق ہو گئیں۔ میں اکثر اس عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے یہی سوچتی تھی کہ نیچے سے اوپر تک grilled اس عمارت جس میں 200 سے زائد طالبات رہ رہی ہیں، کا داخلی دروازہ بھی اس قدر تنگ ہے کہ خدانخواستہ کسی ناگہانی صورتحال میں یہاں سے باہر نکلنا کتنا مشکل ہو گا۔ ایسا سوچنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ہاسٹل جی ایچ کیو سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے اور اسی علاقے میں اس سے پہلے دہشت گردی کے چند واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ کل اچانک آگ بھڑک اٹھنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی تھا کہ پہلے ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ایجنسیوں کو پہلے شیشے توڑنے پڑے، پھر لوہے کی جالی کاٹنے کے بعد اتنی جگہ بنائی جا سکی کہ اوپر والی منزل میں محبوس لڑکیوں کو سیڑھیاں لگا کر باہر نکالا جا سکے۔ اس اثنا میں رفاہ میڈیکل کالج کی چھ طالبات کو ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھیں، جلنے اور دم گُھٹنے سے جاں بحق ہو چکی تھیں۔ اب ہو گا یہ کہ ہاسٹل انتظامیہ اور ہمارے حکمران تعزیتی بیان جاری کر کے پھر اپنے آپ میں گم ہو جائیں گے۔ اور کسی کو احساس تک نہیں ہو گا کہ کتنے قابل لوگ اتنی آسانی سے لقمہ اجل بن گئے اور کتنے والدین کی امیدیں مٹی میں مل گئیں۔ میری ایک کولیگ جو پچھلے سال اپنی گریجویشن سے پہلے اسی ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی، کے مطابق اس عمارت میں کہیں بھی ہنگامی اخراج کا کوئی ایک راستہ بھی نہیں تھا۔ پوری عمارت میں کہیں بھی کوئی سموک یا فائر الارم نہیں ۔ایک جگہ fire extinguishers نمائشی طور پر آویزاں تھے اور ان کو زنگ لگ چکا تھا۔ عمارت میں بجلی کی وائرنگ اس قدر شکستہ حالت میں تھی کہ تاروں سے سپارکنگ ہونا ایک عام بات تھی۔ بار بار یاد دہانی کے باوجود ہاسٹل انتطامیہ کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ جبکہ کرائے کے نام پر ہر مہینے بھاری بھرکم رقم بٹور لی جاتی ہے۔
اب یہ عمارت سِیل کر دی گئی ہے۔ اس طرف آنے والی سڑک بند کر دی گئی ہے۔ پولیس اور فوج کا سڑک پر پہرہ ظاہر کرتا ہے کہ ہو سکتا ہے اگر کسی کو خیال آ جائے تو ‘بڑوں’ میں سے کوئی ادھر کا دورہ کر لے۔ اگر رحمان ملک انکل کو برطانوی بچے کے اغواء کی ٹینشن نے کچھ مہلت دی تو شاید وہ بھی ادھر کو آ نکلیں۔ کاش کوئی اس انتظامیہ سے یہ بھی پوچھ سکے کہ کیا ان کی عمارت اس معیار پر پوری اترتی تھی جو طلباء کے ہاسٹل کے لئے ضروری ہوتے ہیں؟ اور کاش کوئی مجھے یہ بتا سکے کہ ہمارے ملک میں اداروں کے لئے کوئی ایسا کوڈ موجود ہے بھی یا نہیں جس کے تحت وہ سیفٹی کے اصول و ضوابط کی پابندی کریں؟
The Climb
I can almost see it
That dream I’m dreaming but
There’s a voice inside my head sayin,
You’ll never reach it, ![]()
Every step I’m taking,
Every move I make feels
Lost with no direction 
My faith is shaking but I
Got to keep trying
Got to keep my head held high
There’s always going to be another mountain 
I’m always going to want to make it move ![]()
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain’t about how fast I get there,
Ain’t about what’s waiting on the other side
It’s the climb ![]()
The struggles I’m facing,
The chances I’m taking
Sometimes they knock me down but 
No I’m not breaking 
The pain I’m knowing 
But these are the moments that
I’m going to remember most yeah ![]()
Just got to keep going
And I,
I got to be strong 
Just keep pushing on,
There’s always going to be another mountain
I’m always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain’t about how fast I get there,
Ain’t about what’s waiting on the other side
It’s the climb
There’s always going to be another mountain
I’m always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle, 
Sometimes you going to have to lose, ![]()
Ain’t about how fast I get there,
Ain’t about what’s waiting on the other side
It’s the climb
Keep on moving
Keep climbing
Keep the faith baby
It’s all about
It’s all about
The climb
Keep the faith
Keep your faith
Singer: Joe McElderry
ایک اور سال بیت چلا۔ آخری دن وہی روایتی سوال خود سے اور دوسروں سے پوچھا جاتا ہے۔ یہ سال کیسا گزرا؟ کیا کھویا کیا پایا؟ جو کام کرنے کا ارادہ تھا مکمل ہوئے یا نہیں؟
2009ء میں بحثیتِ پاکستانی اتنا کچھ کھویا ہے کہ شمار کرنا مشکل ہے۔ وطن سے دُور رہ کر بھی سکون نہیں اور وطن میں رہ کر بھی ایک دھڑکا لگا رہتا ہے۔ کتنا عجیب لگتا ہے جب قدم قدم پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہتھیار بند افراد سے سامنا ہوتا ہے۔ جب ہر کوئی اپنے آس پاس موجود لوگوں کو مشتبہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ جب اخبار اٹھاتے، خبریں سنتے ہوئے اور کسی کا فون آتے ہی بے اختیار منہ سے خدا خیر کرے نکلتا ہے۔
پھر بھی زندگی رواں دواں ہے۔ اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چُھوٹا
۔ مشکل حالات کے باوجود اپنا گھر اپنا ہی ہے۔ اپنا تو یہی یقین ہے کہ جو مزہ اپنے چوبارے ، نہ بلخ نہ بخارے۔
۔ اللہ کرے آنے والا سال پاکستان اور ہم سب کے لئے امن و سلامتی کا پیامبر ثابت ہو۔ ثمَ آمین
اس سال زندگی مصروف سے مصروف تر ہوتی گئی۔ سارا سال ہی جیسے سفر میں گزر گیا۔ بہت سے پرانے دوستوں سے رابطہ بحال ہوا جن میں سراسر قصور انہی لوگوں کا تھا کہ میں جہاں بھی ہوں وہ مجھے ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ اسی طرح بہت سے اچھے لوگ شاید ناراض ہو گئے ہیں کہ ان سے رابطہ برقرار رکھنے میں سستی ہو گئی
۔ اللہ کرے 2010ء میں یہ ناراض لوگ اپنی ناراضگی بھول جائیں۔
اسی دعا کے ساتھ کہ سب کے ناراض دوست مان جائیں، نئی کامیابیاں نصیب ہوں اور دل سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال ہو جائیں۔ نئے سال کی آمد پر سب کے لئے نیک خواہشات کا تحفہ۔ 
نئے سال کے لئے قرارداد بنانے کا کم از کم مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوتا کہ میں وہ سب کام کر لیتی ہوں جن کا نئے سال کے ایجنڈے سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا جبکہ قرارداد کا حشر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ اقوامِ متحدہ میں کشمیر کے متعلق داخل کردہ یادداشتوں کا۔
خوش آمدید 2010ء اور الوداع 2009ء
میں سال کا آخری سورج ہوں
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
کوئی کہتا ہے میں چل نہ سکا
کوئی کہتا ہے کیا خُوب چلا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
اس رخصتِ عالم میں مجھ کو
اک لمحہ رخصت مل نہ سکی
جس شب کو ڈھونڈنے نکلا تھا
اس شب کی چاہت مل نہ سکی
یہ سال کہاں، اک سال کا تھا
یہ سال تو اک جنجال کا تھا
یہ زیست جو اک اک پَل کی ہے
یہ اک اک پَل سے بنتی ہے
سب اک اک پَل میں جیتے ہیں
اور اک اک پَل میں مرتے ہیں
یہ پَل ہے میرے مرنے کا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
اے شام مجھے تُو رخصت کر
تُو اپنی حد میں رہ لیکن
دروازے تک تو چھوڑ مجھے
وہ صبح جو کل کو آئے گی
اک نئی حقیقت لائے گی
تُو اُس کے لئے، وہ تیرے لئے
اے شا،م! تُو اتنا جانتی ہے
اک صبحِ امید ، آثار میں ہے
اک در تیری دیوار میں ہے
اک صبحِ قیامت آنے تک
بس میرے لیے بس میرے لیے
یہ وقت ہی وقتِ قیامت ہے
اب آگے لمبی رخصت ہے
اے شام جو شمعیں جلاؤ تم
اک وعدہ کرو ان شمعوں سے
جو سورج کل کو آئے یہاں
وہ آپ نہ پَل پَل جیتا ہو
وہ آپ نہ پَل پَل مرتا ہو
وہ پُورے سال کا سورج ہو
اے شام مجھے تو رخصت کر!
کلام: لطیف ساحل

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے
وہی لوگوں سے روٹی کا نوالہ
چھین لینے کی حریصانہ پراگندہ سیاست
سیاہ کاروں کے ہاتھوں میں چیختی، سسکتی ہماری ریاست
جہاں مائیں۔۔۔۔جگر گوشوں کو
اپنے خون میں ڈوبی ہوئی
لوری سناتی ہیں
جہاں پر خواب میں سہمے ہوئے بچوں کی آہیں ڈوب جاتی ہیں
یہ میرے سامنے سے کیسا موسم جا رہا ہے
اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے
وہی سہمے ہوئے وعدے
لہو میں تر دعائیں
لرزتی کانپتی روتی صدائیں
عبادت کرنے والوں کو بلاتی ہیں
بھلائی کی طرف آؤ
بھلائی کی طرف آؤ
مگر ایسا نہیں ہوتا
مگر ایسا نہیں ہوتا
خدا اور آدمی کے درمیان
ایک خوف کی دیوار چڑھتی اور بڑھتی جا رہی ہے
اسی جانب اندھیروں کا سمندر جا رہا ہے
اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے
میرا قومی خزانہ لوٹنے والوں کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے
اور ایسے لالچی لوگوں کو حاصل ساتھ کس کا ہے
وطن والوں کی خواہش ہے
کہ یہ سب لوگ
رسنِ صبح تک پہنچیں
یا دارِ شام تک پہنچیں
یہ جس انجام کے قابل ہیں
اس انجام تک پہنچیں
کہ ذلت کی طرف ان کا مقدر جا رہا ہے
کلام: فاروق اقدس
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا
یہ کہہ دینا ، ہزاروں عیب رکھتا ہوں ، ہنر دینا
نہ دل دینا ، نہ در دینا، نہ زر دینا، نہ گھر دینا
تمہیں دیکھا کروں آٹھوں پہر ، ایسی نظر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا
کئے ہیں جُرم اتنے اس لیے پچھتا رہا ہوں میں
گناہوں کے بھنور میں ڈوبتا ہی جا رہا ہوں میں
چلا آیا تیرے در پر تو بیڑا پار کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا
شبِ اسراء کے دولہا تمہاری دُھوم ہے گھر گھر
پلاتے ہو مئے توحید مستانوں کو بھر بھر کر
سوالی ہوں تیرے در کا ، مری جھولی کو بھر دینا
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا
نعت خواں: علی حمزہ (نُوری)
فکرِ انسانی کو دے گی ارتقا کی روشنی
یہ مدینے کی ، نجف کی، کربلا کی روشنی
شمعیں گُل کر دی گئیں بزمِ حُسینی کی مگر
تھی شبِ عاشور میں اہلِ صفا کی روشنی
اس میں ہر نقشِ حق و باطل نظر آتا ہے صاف
کربلا کی روشنی ہے، کربلا کی روشنی
ہر قدم رکھا تصور، روضۂ شبیر کا
ہم نے راہِ کربلا میں ، رہنما کی روشنی
دل میں غم شبیر کا ، آنکھوں میں اشکِ تعزیت
ان عزا خانوں میں ، ہم نے تو سدا کی روشنی
نور چشمِ مصطفیٰ کے روضۂ پُر نُور پر
سب نے کچھ مانگا مگر، ہم نے دعا کی روشنی
شام کی راہوں میں عابد پابجولاں تھے مگر
دُور تک پھیلی ہوئی تھی ، نقشِ پا کی روشنی
مجھ کو تابندہ رکھا سوزِ غمِ شبیر نے
عمر بھر زخمِ محرم نے عطا کی روشنی
تازہ تر رکھا غمِ شبیر اشک و آہ نے
نخلِ ماتم میں رہی آب و ہوا کی روشنی
سننے والوں کو بھی کچھ نورِ سماعت مل سکے
اس لیے ہر منقبت میں ہم نوا کی روشنی
کربلا کی روشنی میں کہہ کے تابش کشھ سلا
ہم نے ایوانِ ادب میں بارہا کی روشنی
کلام: تابش دہلوی
Back after a long visit to Azad Kashmir educational institutes with a foot sprain tale.
Couldn’t resist taking snapshots of knives and guns in Bhimber.
“ہم لوگوں کے لئے یہی ایک مقامِ غور ہے کہ ہم زندگی فرعون کی چاہتے ہیں اور عاقبت موسیٰ کی”
‘گُمنام ادیب۔ واصف علی واصف’
“زندگی غموں اور خوشیوں کا مجموعہ ہے۔ تعلیم کا وسیع ترین مفہوم یہ ہے کہ جسم اور ذہن دونوں کی تربیت ہو اور ایسی متوازن شخصیت تشکیل پائے جو ہر طرح کے حالات میں خود کو سنبھال سکے۔ اور زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ آسانی سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔ یہ محض سکول کی پڑھائی اور کتابوں کے علم سے ممکن نہیں۔ اس کا انحصار زیادہ تر ماں کے رویے اور اور تربیت پر ہے۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ بچے میں خود نظمی اور کردار کی کی مضبوطی پیدا کرنے میں مدد کرے۔ حقیقی محبت یہ نہیں کہ بچے کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کی جاتی رہے۔ بلکہ یہ ہے کہ اُسے منظم ہونا اور ضرورت کے مطابق حالات کو سمجھنا سکھایا جائے۔”
‘اندرا گاندھی۔ میرا سچ’
ٹیلی ویژن کسی زمانے میں تفریح کے ساتھ ساتھ تعلیم کا ذریعہ بھی تھا۔ اگرچہ آج بھی ایسا سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب سب کچھ تفریح کے گرد ہی گھومتا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز پر ڈرامہ اور سیاست کے علاوہ شاید ہی کچھ نشر کیا جاتا ہے۔ (ویسے تو سیاسی شوز بھی ڈرامہ ہی ہیں)۔ بلکہ میں تو انہیں سٹیج شوز کہوں گی۔ چند مخصوص چہرے، مخصوص سوالات، رٹے رٹائے جوابات ، الزامات اور لڑائیاں۔ مہمان سیاستدان اداکار ایک سٹوڈیو سے دوسرے کی طرف بھاگتے ہیں اور وہاں پہنچ کر وہی رٹا رٹایا سکرپٹ دہرا دیتے ہیں
۔ اول الذکر دیکھنے بیٹھیں تو ایسے ایسے موضوعات اور حالات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ پاکستانی ڈرامے کے سنہری دور میں بھی کوئی مثال موجود نہیں۔ بلکہ یہ جو آئے دن پاکستانی ذرائع ابلاغ پر پابندی کا غلغلہ اٹھتا ہے انہیں میڈیا کی آزادی دیکھنا ہے تو کسی بھی چینل پر کوئی ڈرامہ دیکھ لیں۔ سیٹ، ملبوسات ، موضوع، اداکاری کسی بھی لحاظ سے ہم کسی سے کم نہیں بلکہ بہت آگے نکل رہے ہیں۔ اب معلوم نہیں ہم لوگ بحیثیتِ قوم بہت روشن خیال ہو گئے ہیں
یا شاید پمرا ڈرامہ اور دیگر تفریحی پروگرامز کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں بناتا۔ برطانیہ میں رات دس بجے سے پہلے کوئی ایسا پروگرام نشر نہیں کیا جاتا جسکا دیکھنے والوں خصوصا بچوں پر غیر اخلاقی اثر پڑتا ہو۔ حتیٰ کہ سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دکھانے میں بھی احتیاط کی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا کوئی پروگرام/ فلم/ ڈرامہ آن ایئر آتا بھی ہے تو شروع ہونے سے پہلے اس کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔
کسی زمانے میں صرف سٹار پلس کے سوپ ڈراموں کا بخار ہوتا تھا۔ اب پاکستان میں بھی اس وائرس کا دور دورہ ہے۔ میری بھابھی پنے بھائی کی طرف جاتیں تو باقاعدگی سے اپنے پسندیدہ ڈرامے کی اپڈیٹ لیتیں فون پر
اس وقت جیو پر سوپ ڈراموں کا سلسلہ نیا نیا شروع ہوا تھا۔ اور مجھے حیرت ہوئی کہ اتنے سالوں بعد بھی وہ ڈرامہ ابھی جاری ہے۔ تقریباتمام کاسٹ تبدیل ہو چکی ہے۔ کہانی بھی عجیب و غریب ہے۔ کبھی کوئی برسوں بعد مردہ سے زندہ ہو جاتا ہے تو کبھی اچانک کوئی ایسا رشتہ دریافت ہو جاتا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ بیچ میں کاسٹ غائب ہوتی جاتی ہے تو بجائے اس کردار کو ختم کرنے کے ایک نیا اداکار بھرتی کر لیا جاتا ہے یوں ایک کردار کئی چہرے بدلتا ہے۔ جس کہانی میں حقیقت کا رنگ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قیام سے اب تک پاکستان میں بھی سوپ ڈرامہ ہی چل رہا ہے۔ وہی سیاست اور سیاست دان، وہی فوج اور وہی فوجی رعب۔ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ ایک جاتا ہے ایک آتا ہے۔ چہرے بدل بھی جائیں لیکن تاریخ میں سب کا ایک ہی کردار ہے کم و بیش۔





حالیہ تبصرے