دسمبر کا آخری دن گزرنے میں ابھی چند گھنٹے باقی ہیں۔ نیا سال مبا رک کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہندسے تبدیل ہونے سےحالات بدل جاتے ہیں؟ وہی سورج ہو گا جو ۳۱ دسمبر کو ڈوبا تھا، وہی لوگ ہوں گے، وہی حالات، وہی سوچیں ہوں گی تو نیا کیا ہوا؟ بات تو تب ہو جب ہم انسان خود کچھ نیا کریں ورنہ ہندسوں کے ہیر پھیر پر خوشی کیا منانا!
فیض نے بھی کیا خوب کہا ہے اس بارے میں۔
نیا سال
اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟
ہر طرف خلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی
آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے
کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے
جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي
اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي
تيرا من دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی ميعاد بسر کر کے چلا جائے گا
تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی
بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں
غالباً بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں
تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی
فیض احمد فیض
نظم بشکریہ ساجد اقبال
بہرحال دعا تو کرنی ہے کبھی بھی، کہیں بھی
۔۔۔ اللہ کرے کہ آنے والا سال سب کے لئے کامیابی، امن اور خوشیوں کا سندیسہ لائے (آمین)




حالیہ تبصرے