پاکستان میں ‘اباؤں” کی کافی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ جن میں سے چند قابلِ ذکر ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کر کے اپنے سینوں پر فخر کا تمغہ سجایا کرتے ہیں۔ دوسرے جو اپنے جرائم کی بدلے میں ونی کے نام پر بیٹیوں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ بیٹیاں ہوتی کس لئے ہیں بھلا۔
لیکن اب کچھ عرصے سے انتہائی مشفق قسم کے ابا بھی سامنے آئے ہیں۔ وہ جو انتہائی حساس عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بیٹی کی محبت میں مغلوب ہو کر امتحان میں اس کے نمبر بڑھواتے ہیں اور دوہ بھی جن کی بیٹی کی سالگرہ پر اسمبلی میں مبارکباد کی قرارداد منظور کی جاتی ہے۔ اب بھی اگر لوگ کہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ 
قصہ یہ ہے کہ مورخہ تین فروری 2009 کو آصفہ بھٹو زرداری کی سالگرہ کے موقع پر سندھ اسمبلی میں باقاعدہ قراداد منظور کی گئی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے مبارکباد کی قرارداد ایوان میں پیش کی جس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اور یوں جب جب سندھ اسمبلی کی کاروائی کی تاریخ پڑھی جائے گی۔ آصفہ بھٹو زرداری کا نام بھی جگمگاتا دکھائی دے گا۔
ویسے پاکستانی عوام کو مبارکباد۔ لگتا ہے شہنشائیت کا دور آ گیا ہے پاکستان میں۔ Long Live the King کا نعرہ لگانے کے لئے تیار ہو جائیں۔
آصفہ کی آپی شازیہ مری کو چاہئیے کہ لگے ہاتھوں امریکی صدر براک اوبامہ کی بیٹیوں کو ایک ای میل ہی کر دیں کہ ان کا نام تو صرف ان کے ابا کی حلف برادری کی تقریب میں لیا گیا۔ پاکستانی صدر کی صاحبزادی کی سالگرہ تک بھی اسمبلی میں منائی جاتی ہے۔ تو کس کے اباجان زیادہ بااختیار ہوئے؟
مشرف انکل یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ قوم سے پوچھیں کیا فرق محسوس کیا ہے عوام نے آمریت اور جمہوریت میں؟ آمر کی اماں جی کا ذکر امر ہوا سکول کی نصابی کتب میں تو منتخب صدر کی دختر کا نام محفوظ ہوا اسمبلی کی کاروائی میں۔ کُرسی پائندہ باد!!۔
جاتے جاتے ایک اور قسم یاد آئی۔ مجبور اباؤں کی قسم۔ جن کی بیٹیوں کے سر پر چھت نہیں ہوتی، ان کی درسگاہیں جلا دی جاتی ہیں، اور جو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے چکر میں بیٹیوں کی سالگرہ کی تاریخ بھی بُھول جاتے ہیں۔ ان اباؤں کے پاس اپنی بیٹیوں کو قسمت پر صبر و شکر کا سبق دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ ہر بیٹی فرح حمید ڈوگر یا آصفہ تو نہیں ہو سکتی۔




جمعرات ، ۵. فروری ۲۰۰۹
اور پھر بھی کہتے ہیں
عبدالقدوس, کی تازہ تحریر: روزنامہ جنگ بیچارہ
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۵. فروری ۲۰۰۹
ارے بی بی ۔ کیوں دل میَلا کرتی ہیں ؟ ہمارے ملک میں جمہوریت 1953ء میں اغواء ہو گئی تھی ۔ آج تک کئی لوگ اُس کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ نہ کوئی عدالت ازخود کاروائی کرتی ہے اور نہ کوئی تھانیدار ہماری فریاد سُنتا ہے ۔ آپ حقوق خواتین کی بات کرتی ہیں ۔ یہاں تو سب کچھ ہی چوپٹ ہے
افتخار اجمل بھوپال, کی تازہ تحریر: بیس میٹر اونچی دیوار کیسے ٹوٹی
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۵. فروری ۲۰۰۹
سب ٹھیک ہو جائے گا انشااللہ۔ دل چھوٹا نہ کریں۔
فیصل, کی تازہ تحریر: اردو بلاگ انگریزی بلاگ
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
ساجداقبال جواب:
فروری ۷ ، ۲۰۰۹ بوقت ۰۷:۰۰
ان شاء اللہ
ساجداقبال, کی تازہ تحریر: eMobilez: Download free beautiful iPhone themes
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۵. فروری ۲۰۰۹
فیصل بھائی نے تو پی ٹی وی والی سٹیٹمنٹ دے ڈالی
عبدالقدوس, کی تازہ تحریر: ضرورت ایجاد کی ماں ہے
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۶. فروری ۲۰۰۹
واقعی ابا جی ابا جی کا فرق ہے ورنہ بیٹیوں کے لیے کیا نہیں ہو سکتا۔
ویسے سندھی اسمبلی میں اتنی چمچہ گیری کی جاتی ہے حیرت ہے۔
محب علوی, کی تازہ تحریر: Groundhog Day
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
ہفتہ ، ۷. فروری ۲۰۰۹
عبدالقدوس: پاکستان زندہ باد کون کہتا ہے؟ یہاں تو بس کرسی ہی زندہ باد ہے


افتخار انکل: آپ کی بات سے مجھے یہ محاورہ یاد آ گیا۔ اندھیر نگری چوپٹ راجہ
فیصل: انشاءاللہ
محب علوی: واقعی! اور کچھ ابا ایسی مثالیں قائم کر جاتے ہیں کہ معاشرے کی بربادی کے لئے کسی دشمن کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
ویسے سندھ اسمبلی پر کیا موقوف۔ یہاں تو ہر جگہ چمچہ گیری کا دور دورہ ہے۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
اتوار ، ۸. فروری ۲۰۰۹
بالکل صحیح کہا ہے اصل میں زرداری صاحب آجکل زیادہ فارم میں ہیں تو سندھ اسمبلی بھی آگے آگے ہیں کل کو شریف برادران زیاہ آگے ہوئے تو پنجاب میں بھی ریکارڈ قائم ہوں گے۔
محب علوی, کی تازہ تحریر: Groundhog Day
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
سوموار ، ۹. فروری ۲۰۰۹
ایسا ہی ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں ہمارے سیاست دان بہت ماہر ہیں۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
منگل ، ۱۰. فروری ۲۰۰۹
آمریت اور جمہوریت میں کم سے کم پاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے، آمریت آتی ہی تب ہے جب جمیوریت خود اس کو بڑی بہن بن کے دعوت دیتی ہے، اور عوام بیچارے ایسے ہی کھپتے رہتے ہیں اور آمرون کو گالیان نکال نکال کے خوش ہوتے ہیں۔
لیکن بس اللھ پاکستان کی خیر رکھے یہ سب تو آنے جانے ہین۔
آن لائن اخباری رپوٹر, کی تازہ تحریر: MS Dhoni and Sakshi Singh Rawat a new relation
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
اتوار ، ۱۵. فروری ۲۰۰۹
متفق علیہ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے (آمین) حکومتی کرتا دھرتا تو سب کچھ ڈبونے کے درپے لگتے ہیں۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۲۷. فروری ۲۰۰۹
دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
اتوار ، ۱. مارچ ۲۰۰۹
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں