بدھ ، فروری ۰۴ ، ۲۰۰۹ | مصنف: فرحت کیانی

ماضی
تعلیمی ادارے: بے غرض اکتسابِ علم
استاد: فرض شناسی ، بے غرضی ، استغنا، قربانی ، نظم، کردار سازی
طلباء: احترام، شوق، لگن ، اخلاق

حال
تعلیمی ادارے: منعفت بخش کاروبار
استاد: مادیت پرستی ، نفع پسندی، فکرِ معاش ، فرائض سے روگردانی
طلباء: بغاوت، روایت شکنی، بے لحاظی ، بے ادبی، علم سے بیزاری

ادارے سرکاری ہوں یا پرائیویٹ ، معلمی پیشہ و کاروبار بن گئی ہے اور تعلیم محض کاغذی ڈگریوں میں اضافے کا ذریعہ۔

Share/Save/Bookmark

مندرجہ بالا تحریر پر ہونے والے تبصروں سے بذریعہ آر ایس ایس آگاہ رہئیے , اپنی رائے دیجئے , یا اپنی ویب سائٹ سے ٹریک بیک کیجئے۔

5 آراء

  1. میں زندگی میں صرف یہ دو کام کئے ہیں ۔
    بطور استاد: فرض شناسی ، بے غرضی ، استغنا، قربانی ، نظم، کردار سازی
    بطور طالب علم : احترام، شوق، لگن ، اخلاق

    میں پاس یا فیل ؟ اگر پاس تو کتنے نمبر ؟ :hehe:
    افتخار اجمل بھوپال, کی تازہ تحریر: مزید دبئی ۔ عمارات ۔ مرکز للتسویق اور مچھلی گھر  

    (Quote)

    اس تبصرے پر رائے دیں

  2. یہ حال صرف پاکستان میں‌ہے :P کیوں کہ یہاں پر رشوت اور سفارش ہے :dntelme
    عبدالقدوس, کی تازہ تحریر: ذرا بتلاؤ لوگوں کو کرامت اس کو کہتے ہیں  

    (Quote)

    اس تبصرے پر رائے دیں

  3. حالیہ رجحانات کی بالکل صحیح تصویر کشی کی ہے آپ نے فرحت، افسوس کہ تعلیم جیسا مقدس پیشہ ایک منفعت بخش کاروبار بن چکا ہے جس میں سب جائز ہے، افسوس صد افسوس!

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: ابھی تو میں جوان ہوں – حفیظ جالندھری  

    (Quote)

    اس تبصرے پر رائے دیں

  4. مغرب میں بھی تعلیم ایک پروفیشن ہے۔ استاد آتا ہے، پڑھاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ بہترین تنخواہ لیتا ہے، طالب علم مہنگی تعلیم حاصل کرتا ہے اور استاد کو صرف ایک مددگار کے طور پر جانتا ہے، جس کی خدمات کا معاوضہ ادا کیا جاچکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تبدیلیاں بہت تیزی سے آئی ہیں، مذہب اور روایات نے استاد کو جو مقام دیا ہے آج کے مادہ پرست دور میں اس کا مفہوم پیسے سے بدل گیا ہے۔ چناچہ ہمیں یہ بہت ہی برا لگتا ہے۔

    دوست, کی تازہ تحریر: کتبے  

    (Quote)

    اس تبصرے پر رائے دیں

  5. 5
    فرحت کیانی 
    جمعرات ، ۵. فروری ۲۰۰۹

    افتخار انکل: 200 فیصد پاس۔ :D بلکہ جس نے آپ کی طرح دونوں کردار بخوبی نبھائے وہ تو امتیازی نمبروں سے پاس ہوا ناں۔خوش نصیب ہیں وہ استاد جنہیں اچھے شاگرد ملے اور با مراد ہیں وہ شاگرد جنہیں پُرخلوص اساتذہ کی رہنمائی نصیب ہوئی :)
    عبدالقدوس: درست کہا۔ لیکن رشوت اور سفارش بھی تو ہمارا ہی دیا ہوا تحفہ ہیں :-(
    وارث: بالکل :-( تعلیم کاروبار بن جائے تو کردار سازی کا عمل صفر ہو جاتا ہے۔
    دوست: بجا کہا آپ نے :) ۔مادیت پرستی نے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ مغرب کی اندھا دھند نقالی نجانے ہمیں کہاں لے جائے گی :hmm:
    ویسے مغرب کے باسیوں کے لئے کم از کم بنیادی تعلیم مہنگی ہر گز نہیں ہے۔ تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے اور شہری امیر ہے یا غریب۔ اس کا بچہ مالی کمزوری کی بنا پر تعلیم سے محروم نہیں کیا جاتا۔
    تدریس پیشہ ضرور ہے لیکن معاشرہ استاد کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں اب اکثر درس و تدریس کو نسبتاً کم درجے کا پیشہ سمجھا جاتا ہے۔  

    (Quote)

    اس تبصرے پر رائے دیں

رائے دیجئے۔ » لاگ اِن