سوموار ، جنوری ۰۵ ، ۲۰۰۹ | مصنف: فرحت کیانی

ہمارے گھر تباہ ہوں ، غم و ملال کچھ بھی ہو
رہیں گے ہم اِسی جگہ ہمارا حال کچھ بھی ہو

جو سراپا خیر ہے ، اُسی کا امتی ہوں میں
مرا جواب پیار ہے، ترا سوال کچھ بھی ہو

تمام مہرے سچ کے ہیں ، ہم اہلِ حق کے ہاتھ ہیں
ہماری جیت طے رہی کسی کی چال کچھ بھی ہو

ہمارے بھائیوں کو بس غرض ہے اقتدار سے
وطن کا حال کچھ بھی ہو ، یہاں وبال کچھ بھی ہو

یہ اندھی سوچ دے رہے ہیں نسلِ نو کو رہنما
روش روش کو روند ڈالو، پائمال کچھ بھی ہو

منظر بھوپالی

Share/Save/Bookmark

مندرجہ بالا تحریر پر ہونے والے تبصروں سے بذریعہ آر ایس ایس آگاہ رہئیے , اپنی رائے دیجئے , یا اپنی ویب سائٹ سے ٹریک بیک کیجئے۔
رائے دیجئے۔ » لاگ اِن