جمعرات ، اپریل ۰۱ ، ۲۰۱۰ | مصنف: فرحت کیانی
سب نے سکول کالج میں انگریزی گرامر میں وہ مضمون تو پڑھا ہو گا ‘ طلباء امتحان میں کیوں فیل ہوتے ہیں۔’ یا شاید ‘لڑکے امتحان میں کیوں فیل ہوتے ہیں’۔
آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ کبھی فیل ہوئے؟ ہوئے تو کیوں اور نہیں تو کیوں نہیں؟
نیز امتحان میں نقل کرنے کے بہترین اور آزمودہ طریقے کون سے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کسی پیپر میں نقل کی؟
زمرہ: ادھر ادھر سے, بےربط سوچیں, خیال آرائیاں




جمعرات ، ۱. اپریل ۲۰۱۰
میں کبھی فیل نہیں ہوا اور اس کی وجہ میری مسیں
اور انٹرنیٹ کی دنیا میں آ کر پتا چلا کہ نقل کرنے کے بہترین طریقے زنانہ طریقے ہیں
اور بہترین میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتین
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۱. اپریل ۲۰۱۰
نہ تو جی میںکبھی فیل ہوا
اور نہ کبھی نقل کی
کروائی البتہ بہت۔۔۔
کڑیوں کو میںکوئی اتنی لفٹ نہیںکرواتا
اس لئے پتہ نہیںکہ وہ کیسے نقل کرتی ہیں
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۱. اپریل ۲۰۱۰
ہم ماسٹرز کرنے جب امریکہ آئے تو پہلے سمیسٹر میں ہمارا دل ہی نہیں لگا اور ہم ڈیپرشن وغیرہ کا شکار ہو گئے۔ تب ہم اس سمیسٹر میں کامیاب نہیںہو پائے مگر اگلے ہی سمیسٹر میں دوستوں کی مدد سے سنبھل گئے اور تب سے چل سو چل۔
بیس تیس سال پہلے تو نقل پرچی سے ہوتی تھی اور بورڈ کے امتحان میں کسی نے رقم لگائی ہوتی تھی تو وہ پوری کی پوری کتاب ہی ساتھ لے آتا تھا۔ یار دوست پانی یینے یا باتھ روم میں جاتے تو پرچہ آؤٹ کر آتے۔ اس کے بعد کھڑکیوں سے پرچیاں پتھروں کیساتھ کمرہ امتحان میں برسنا شروع ہو جاتیں۔ کچھ لوگ ہاتھوں پر بھی لکھ کر لے آیا کرتے تھے۔
ہمارے یونیورسٹی کے زمانے میں ایک صاحب سمیسٹر میں صرف چھ دفعہ نوٹ تقسیم کیا کرتے تھے اور ٹیسٹ انہی میں سے ہوا کرتا تھے۔ یار لوگ سارے نوٹ ساتھ لے جایا کرتے اور جس نوٹ سے سوال آتا سارا نوٹ اس کیساتھ لگا دیتے اور اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتے۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۱. اپریل ۲۰۱۰
میعار تعلیم کی تباہی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سارا سال آوارہ گردی اور امتحان میں چھپائی،بندوں کا تو خیر کسی کو خوف ہی نہیں مگر کیا اللہ کا خوف بھی نہیں،جب ہم زندگی کی ابتداءہی بے ایمانی سے کرتے ہیں تو آگے بھی بس یا بے ایمانی تیرا ہی آسرا رہتا ہے،
جن تعلیمی اداروں میں استاد محنت کرتے اور کرواتے ہیں وہاں نقل کرنے والے طالب علم نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں،
اگر دوران پریکٹیکل گھبراہٹ میں کچھ بھول جانا اور ساتھ والے کا یاد دلوادینا نقل ہے تو ہاں میں بھی ایک بار یہ جرم کرچکا ہوں،
فیل تو کبھی نہیں ہوا الحمد للہ!
نقل کے طریقے جو سنے اور دیکھے ان میں پھرے بنانا پوری پوری کتابیں لے آنا،اور اب تو سنا ہے موبائل کے ذریعے بھی نقل ہوتی ہے،اور اپنی جگہ دوسروں کو بٹھادینا وغیرہ وغیرہ
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۱. اپریل ۲۰۱۰
فرحت اب مسئلے نقل سے باہر نکل کر اتنے بڑے ہوگئے ہیں کہ سنا ہے پوزیشنز بیچی جاتی ہیں،فیل کو پاس کروادیا جاتا ہے پیسے کے زور پر ، استاد اور بورڈ کی ملی بھگت سے یہ مزموم کاروبار جاری ہے،
اور استاد جھوٹی پی ایچ ڈیز کررہے ہیں! بس نہ پوچھیں کہ ہم نے کس کس چیز کو گھناؤنا کاروبار بنا لیا ہے
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۱. اپریل ۲۰۱۰
کونسے امتحان ميں اپئير ہو رہی ہيں ايگزامنر سے رابطہ کر ليتے ہيں يا بورڈ ميں دے دلا کر معاملہ طے کر ليتے ہيں نقل خطرناک ہو سکتی ہے
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعرات ، ۱. اپریل ۲۰۱۰
ہم کيا جانيں کہ نقل کيا ہوتی ہے دو جماعتيں پاس کی اور چل سو چل
ويسے سُنا ہے کہ نقل پرانے زمانے ميں ہوا کرتی تھی ۔ اب دنيا جديد ہو گئی ہے ۔ نقل کی ضرورت ہی نہيں ۔ عقل جو بہت ہے ۔ بس رقم چاہيئے يا پستول
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۲. اپریل ۲۰۱۰
Cheat on a test کو یوٹیوب پر سرچ کر لیں۔بہت سے طریقے مل جائیں گے۔آپ کوئی بھی استعمال کر لیں۔
http://www.youtube.com/watch?v=tGhOYbPgETQ
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۲. اپریل ۲۰۱۰
کبھی فیل ؟ مجھ سے تو یہ پوچھا جائے کہ کبھی پاس بھی ہوئے
بس دسوی کا وہ واحد امتحان تھا جومیں نے محنت سے پاس کیا اور اس میں بھی بڑے بھائی کا ہاتھ تھا اگر وہ چھترول نا کرتے تو یہ نالائق دسوی پاس بھی نا ہوتا
فیل ہونے کی بہت سے وجوہات تھیں


ہردسمبر ٹیسٹ مین اور ہر کچے امتحان مین فیل ہو جاتا تھا اور پکے امتحان میں سٹار دے کر پاس کر دیا جاتا تھا
سوائے میٹرک کے امتحان کے علاوہ میں نے کسی بھی امتحان کی تیاری نہیں کی اس لیے فیل ہوتا رہا اور میٹر میں پاس ہو کر سب کو حیران کر دیا پرشان کر دیا لوگ مبارک دینے نہیں پاس ہونے کی وجہ پوچھنے آتے رہے
ایک جومیں پڑھنا چاہتا تھا وہ نہیں تھا
دو جب میں کسی ٹیچر سے یا استاد سے سوال کرتا تھا تو مجھے بدتمیز یا یہ سننے کو ملتا تھا کہ استاد تو ہے یا میں
تین ہم کو ایجوکیشن میں تھے جہاں چھ لڑکے اور 15 لڑکیاں تھیں
لڑکیاں ٹیچروں کی تعریف کیا کرتی تھیں اور استاد تو تھے ہی لڑکیوں کی طرف
سبق یاد نہیں کلاس سے بارہ
ہوم ورک نہیں کیا کلاس سے باہر
استاد سے بدتمیزی کلاس سے بارہ
یونیفورم نہیں پہنا کلاس سے باہر
بس صبح بستہ رکھنے کلاس میں جاتے تھے
سائنس کی ٹیچر نے تو مجھے پڑھانا ہی چھوڑ دیا تھا بس ایک دفعہ سوال کیا تھا کہ مس جی یہ جو تجربہ کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ کر کے بتائیں مطلب پریکٹیکل مس نے تجربہ پریکٹیل کل کیا ان سے نہیں ہوا میں نے کیا تو مجھ سے ہو گیا
انگریزی کی ٹیچر کہتی تھی کلاس میں انگریزی بولا کرو ہمیں اردو نہیں آتی تھی تو انگریزی کیسے بولتے بس پھر کلاس سے باہر چلے جاتے۔
تمام ٹیچروں نے اور استادوں نے پیپروں سے پہلے لکھ کر دے دیا کہ خرم اور باقی پانچ لڑکے پاس نہیں ہونگے ان کی کوئی گارنٹی نہیں
ہاں البتہ لڑکیاں پاس ہو جائیں گی اور اچھوں نمبر سے
اگر میں جھوٹ بولوں تو میں جعفر بھائی کی طرح ہو جاؤں
21 بچوں میں ایک خرم شہزاد پاس ہوا ایک واجد محمود پاس ہوا
باقی چار لڑکے ریاضی میں فیل ہو گے
15 لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نصرت پاس ہوئی جو خود سبق یاد کرتی تھی کسی کو نکل نہٰں کرواتی تھی
اور ایک شہلہ آپی کامیاب ہوئی جو مجھے پا کہتی تھی
آپی والا چکر سکول دور سے چلا آ رہا ہے
بس یہ تھی مختصر سی کہانی فیل ہونے کی
اس کے بعد کالج میں بھی فیل ہوا یہ الگ کہانی ہے اس میں میری غلطی تھی
ویسے سکول میں بھی میری غلطی ہی تھی
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۲. اپریل ۲۰۱۰
اور ہاں نقل کی تو بات ہی نہیں کی
اتنی بار فیل ہونے کے باوجود نقل کبھی نہیں کی کسی کے بتانے پر بھی نہیں لکھا بس
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۲. اپریل ۲۰۱۰
میں فیل ہونے کے ڈر سے امتحان ہی نہیں دیتی ۔ کیونکہ اس ایک لفظ سے مجھے چڑ ہے ۔ آجک نقل کا سب سے اچھا طریقہ موبائل فون ہیں ۔اور کھلے عام نقل دینے والے پوچھتے ہیں کہ کتنی نقل کرنی ہے اسی حساب سے ہیمں چیزیں بھی چاہیے ۔ میں نے ایک بار نقل کی تھی ۔لیکن وہ پرچی میرے پیچھے بیٹھی لرخی نے اپنی جان چھوڑانے کے لیے میری طرف پھینک دی ۔ لیکن افسوس کہ جو سوال آیا تھا وہ مجھے پہلے سے معلوم تھا۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں