یادش بخیر۔ اس ویڈیو نے کتنے ہی نام یاد کرا دیئے۔
سنگ سنگ چلیں، سہیل رانا، آنگن آنگن تارے، خلیل احمد
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
ہماری آن اور ہماری عزت ہے اس کا پرچم
ہماری شان اور ہماری شوکت ہے اس کا پرچم
جبیں پہ اس کے یہ چاند تارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
اسے سجا کر ہم اپنی قسمت سنوار دیں گے
دمکتی کرنوں سے اس چمن کو نکھار دیں گے
یہ روشنی کا حسیں مینارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
ہم اپنی محنت سے اس کو رنگِ بہار دیں گے
جو وقت آیا تو اپنی جانیں بھی وار دیں گے
یہاں کا ہر پُھول، ہر شرارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
کلام: سیما سحر
گلوکار: نیرہ نور اور بچے
موسیقی: خلیل احمد




منگل ، ۱۶. جون ۲۰۰۹
بالکل صحیح لکھا ؔپ نے، کتنے اچھے تھے میرے بچپن کے دن
محمد وارث, کی تازہ تحریر: بحرِ مُتَقارِب – ایک تعارف
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
منگل ، ۱۶. جون ۲۰۰۹
زبردست!!!
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۱۹. جون ۲۰۰۹
پی ٹی وی اور میرا بچپن اب یاد بن چکی ہے اب تو پٹی ہوئی کی طرف دیکھنے کو دل نہیں کرتا ۔ اگر آپ نے بچپن یاد کرنا ہے تو پی ٹی وی لگا کر دیکھیں کیونکہ یہ آج بھی ویسا ہی ہے ۔
http:/kami.wordpress.pk
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
اتوار ، ۲۱. جون ۲۰۰۹
محمد وارث:
بالکل۔ بچپن کے دن کتنے اچھے ہوتے ہیں۔ 


الف نظامی:
مسٹر کنفیوز: بلاگ پر خوش آمدید
پی ٹی وی بھی اب کہاں ویسا رہا ہے۔ صرف خبرنامہ واحد ایسا پروگرام ہے جو بعینہ اپنی روایت پر قائم ہے۔ باقی سب تو دوسرے چینلز کی نقل میں کب کا ختم ہو چکا
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں