ان جفاکش ہاتھوں کے نام جن کی سلامتی مجھ سمیت بہت سوں کی تن آسانی کی ضمانت ہے۔
اور سب سے بڑھ کر ہماری کپڑے دھونے والی ماسی کے نام جن کی علالت کے سبب آج مجھے احساس ہوا کہ ‘کر کے کھانی بڑی اوکھی اے’
شورشِ بربط و نَے
دوسری آواز
یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک، اس خوں میں حرارت ہے جب تک
اس دل میں صداقت ہے جب تک، اس نطق میں طاقت ہے جب تک
ان طوقِ سلاسل کو ہم تم، سکھلائیں گے شورشِ بربط و نَے
وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامۂ طبلِ قیصر و کَے
آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھر پور خزینہ ہمت کا
اک عمر ہے اپنی ہر ساعت، اِمروز ہے اپنا ہر فردا
یہ شام و سحر یہ شمس و قمر، یہ اختر و کوکب اپنے ہیں
یہ لوح قلم، یہ طبل و علم، یہ مال و حشم سب اپنے ہیں
کلام: فیض احمد فیض
گلوکارہ: نیرہ نور





جمعہ ، ۱. مئی ۲۰۰۹
فرحت پہلے تو شکر ہے آپ ٹھیک ہو میری طرف سے بھی ان ہاتھوں کے لیے بلکہ ہر اس ہاتھ کے لیے جو کام کر رہا ہے اللہ پاک سلامت رکھے
تانیہ رحمان, کی تازہ تحریر: زین الدین کو جنم دن مبارک ہو
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
ہفتہ ، ۲. مئی ۲۰۰۹
وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامۂ طبلِ قیصر و کَے
یہ ‘شورش’ ہم بھی دیکھیں گے، ہم نہ سہی ہماری آل اولاد سہی، انشاءاللہ۔
محمد وارث, کی تازہ تحریر: چاندنی راتیں
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۸. مئی ۲۰۰۹
‘کر کے کھانی بڑی اوکھی اے’
یایایا چلو شکر ہے آپ کو اھساس تو ہوا۔ ورنہ لوگوں کو تو اھساس بھی نہیں ہوتا۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
جمعہ ، ۸. مئی ۲۰۰۹
فرھت باجی مینوں وی اپنے بلاگران دی لسٹ وچ ایڈ کر لو۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
فرحت کیانی جواب:
مئی ۱۹ ، ۲۰۰۹ بوقت ۱۹:۰۲
آن لائن اخباری رپوٹر: کیوں نہیں بھائی۔ تہانوں بلاگران دی لسٹ وچ شامل کر لیا اے۔ تاخیر لئی معذرت
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
آن لائن اخباری رپوٹر جواب:
مئی ۲۰ ، ۲۰۰۹ بوقت ۰۳:۳۸
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
ہفتہ ، ۹. مئی ۲۰۰۹
ہم کو شاہوں کی عدالت سے توقع تو نہیں
آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں
وہاب اعجاز خان, کی تازہ تحریر: محمود نظامی (نظر نامہ)۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
ہفتہ ، ۹. مئی ۲۰۰۹
بہت دنوں بعد آج آپ کا بلاگ دیکھا
کرکے کے کھانا اتنا مشکل بھی نہیں ۔ ۔ ۔
امید
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں
منگل ، ۱۹. مئی ۲۰۰۹
تانیہ رحمان: بہت شکریہ تانیہ۔

ویسے مجھے احساس تو پہلے بھی تھا لیکن اب سوا ہو گیا ہے 



محمد وارث: انشاءاللہ
آن لائن اخباری رپوٹر:
وہاب اعجاز خان: بلاگ پر خوش آمدید
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ۔ ہو سکتا ہے کبھی یہ زنجیر واقعی زنجیرِ عدل بن جائے
امید: شکر ہے امید آپ بھی دکھائی دیں۔ کہاں گُم ہو جاتی ہیں؟
کر کے کھانا واقعی اتنا مشکل نہیں ہے امید لیکن بہت سے ہاتھ ایسے ہوتے ہیں ناں کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ہمارے لئے کتنی آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ ان کی طرح بیک وقت بہت سوں کی زندگیاں آسان کرنا شاید ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
(Quote)
اس تبصرے پر رائے دیں