محفوظات بہ لحاظ زمرہ جات » یادیں «

250 بار پڑھا گیا۔
جون ۱۵ ، ۲۰۱۰ | مصنف: فرحت کیانی

یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دو دن سے میں بھی ایسی ہی کیفیت سے گزر رہی ہوں۔ پرسوں دن 11 بجے اچانک معلوم ہوا کہ لاہور میں ایک ورکشاپ کم میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اور جانا براستہ سڑک ہے۔ سو دو گھنٹے کے شارٹ نوٹس پر تیاری کی اور بھاگم بھاگ لاہور چا پہنچے۔ سفر شروع ہوتے ہی لاہور میں گزرا وقت اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ یاد آنا شروع ہوا اور پھر کل رات واپسی کے بعد بھی یہ یادیں ختم نہیں ہوئیں۔ میں تقریباً پانچ سال کے بعد لاہور گئی لیکن یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ دن کے وقفے سے واپسی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ جانا آنا بس سونے، میٹنگ ہال پہنچنے اور پھر گاڑی کے واپس گھر کو روانہ ہونے محدود رہا لیکن پھر بھی یاد رہے گا۔
پنجاب یونیورسٹی اور اپنے ہاسٹل جانے کی حسرت دل میں ہی رہی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ آتے جاتے دونوں بار نیو کیمپس یونیورسٹی گراؤنڈ، پانی کی بڑی ٹینکی اور کھیت دکھائی دیتے رہے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ میں میں نے اپنی زندگی کا اکلوتا مشاعرہ اٹینڈ کیا۔ بڑے بڑے شعراء کو دیکھا اور گھر جا کر خوب شو ماری۔ یہ اور بات ہے حسبِ معمول سب نے متاثر ہونے سے صاف انکار کر دیا :sadd: انور مسعود ، احمد فراز، امجد اسلام امجد، ضیاءالحق قاسمی تو وہ نام ہیں جو ہمارے پسندیدہ شعراء میں شامل تھے۔ جند ایسے شاعر بھی موجود تھے جن کی شاعری تو پہلے ہی پلے نہیں پڑتی تھی لیکن اس مشاعرے کے بعد تو شاید ہی میں نے کبھی ان کو کلام پڑھا ہو۔ وصی شاہ، فرحت عباس شاہ بھی موجود تھے :dwh منیر نیازی نے کرسی پر بیٹھ کر صدارت کی کیونکہ وہ ان دنوں بیمار تھے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ سے کچھ ہی فاصلے پر ہمارا ہاسٹل تھا۔ جہاں رہتے ہوئے کبھی یہ اس جگہ اور اس وقت کی اہمیت کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی سعید انکل اپنی چھوٹی سی ٹک شاپ جسے ہم انتقاماً سعید انکل کا کھوکھا کہتے تھے، ملتا تھا۔ جہاں سے آتے جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانا اور انکل کو بتا کر ان کی سوئٹس چوری کرنا سب کا من پسند مشغلہ تھا۔ اسی طرح آتے جاتے لعل انکل کی دعائیں لینا اور نصحیتیں سننا بھی معمول کا حصہ تھا۔ تعصب انکل جو سوائے نام کے تعصب کے سراپا شفقت تھے اور نزاکت جو اتوار کی صبح آلو والے پراٹھے تقسیم کرتا اپنے آپ کو وائس چانسلر سے کم نہیں سمجھتا تھا، یہ سب انہی یادوں کا حصہ ہیں۔ افسوس رہے گا کہ لاہور جا کر بھی یونیورسٹی جانا ممکن نہیں ہوا :cryin
برکت مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ شامیں یاد آئیں جب ہم لوگ شاپنگ کرنے جاتے لیکن اکثر گھنٹوں اولڈ بک شاپ پر گزار کر کورس سے غیر متعلقہ ڈھیروں کتابیں اٹھا کر واپس آ جاتی تھیں۔
ماڈل ٹاؤن سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد کی قرآن اکیڈمی دکھائی دی تو دل مزید اداس ہو گیا۔ کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں :-(
نہر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے CEMB کے بورڈ پر نظر پڑی تو ناسٹلیجیا انتہا کو چھونے لگا۔ ریسرچ کے دنوں میں کڑکتی دھوپ میں نیو کیمپس سے یہاں تک اکثر پیدل مارچ کرنے کے باوجود تھکن کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔
ابھی ہمارا روٹ ایسا تھا کہ ہم مین نیو کیمپس سے نہیں گزرے لیکن نہر اورر فیروز پور روڈ سے وہ نظم یاد آ گئی جو شاید لاء کالج کے کسی اولڈ سٹوڈنٹ نے نیو کیمپس پر لکھی گئی اپنی کتاب میں لکھی تھی۔
کچھ لائنیں یاد ہیں۔ جو میں واپسی کے سفر میں موٹر وے آنے آنے تک ساتھ بیٹھی اپنی سینئر کو سنا کر تنگ کرتی رہی۔

جہاں چڑیوں کی چہکار بھی ہے
جہاں پھولوں کی مہکار بھی ہے
جہاں شجرِ سایہ دار بھی ہے
جہاں سہپن سپنے سجتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

جہاں کپڑا سستا دُھل جائے
جہاں ماضی کا غم بُھل جائے
جہاں اچھا خاصا پڑھنے والا
کاریڈوروں میں رُل جائے
جہاں سرد سموسے ملتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

کافی طویل نظم تھی اور بہت مزے کی۔ لیکن یاد نہیں ہے اب۔
لاہور کی حدود سے نکلتے ہی احساس ہوا کہ ایکسائٹمنٹ اپنی جگہ لیکن دو دن کے میراتھن سفر نے کافی تھکا دیا تھا۔ اور اس افسوس نے بھی کہ کاش باقی کا شہر بھی یوں ہی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے گھوم لیتے۔ :confused
اب ان ساری غیر ضروری باتوں کے بعد ایک کام کی بات۔ اگر آپ کسی ایسے تعلیمی ادارے (سکول/ کالج) کے بارے میں جانتے ہیں‌ جہاں اساتذہ اور بچے Effective teaching learning (معذرت کہ اس وقت ذہن میں اس کی با محاورہ اردو نہیں آ رہی) کے ماحول میں کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے برطانوی سکولز کے ساتھ پارٹنرشپ کرائی جا سکتی ہے اور یوں دونوں طرف کے ادارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ اور سکھا سکتے ہیں۔ اس کے لئے سکولز کے بڑا چھوٹا،سرکاری، نجی، نیم سرکاری، امیر غریب، بڑے چھوٹے شہر سے ہونے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف کام کرنے کا جذبہ شرط ہے۔ اگر آپ کے علم میں ایسا کوئی ادارہ ہے چاہے اس کو ایک استاد ہی کیوں نہ چلا رہا ہو۔ تو مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں۔
میں انشاءاللہ جلد ہی اس سلسلے کی تعارفی پوسٹ لکھوں گی اور یہ بھی کہ بلاواسطہ طور پر اس پروگرام کا حصہ کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اگر اس پوسٹ سے کسی ایک سکول کو بھی آگے بڑھنے کا موقع مل جائے تو میرے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہو گا۔

Share/Save/Bookmark

153 بار پڑھا گیا۔
مئی ۲۸ ، ۲۰۱۰ | مصنف: فرحت کیانی

زندگی خلافِ توقع مصروف سے مصروف ترین ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے کام اور بہت سی مصروفیات جن کے بغیر کبھی گزارہ نہیں ہوتا تھا، اب بھولتے جا رہے ہیں :( لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا دیکھنے اور سیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔
اس سال مارچ میں ملتان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے لئے ملتان دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میں بہت پُرجوش تھی کہ ایک تاریخی اور خوبصورت جگہ دیکھنے جا رہی ہوں (اگرچہ ایسا ہو نہیں سکا :-( )
مسلسل دو ہفتے خرابی موسم کی وجہ سے بالآخر تیسرے ہفتے اللہ اللہ کر کے فلائٹ کنفرم ہو ہی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ جب تک جہاز کم ‘بس’ نے ٹیک آف نہیں کیا یہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں پھر نہ اٹھنا پڑ جائے۔ :confused
یہ پی آئی اے کا اے۔ٹی۔ آر جہاز تھا جس میں سیٹیں ایسے لگی ہوئی تھیں جیسے عام کوسٹر میں ہوتی ہیں۔ سارا وقت یہی محسوس ہوتا رہا کہ ہم براستہ سڑک ملتان جا رہے ہیں۔ بس باہر زمین کے بجائے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ میں حسبِ معمول ناشتے اور پھر دوپہر کے کھانے کے بغیر گھر سے نکلی تھی ایئرپورٹ آتے ہوئے جب بھائی سے کچھ کھانے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ دیر ہو جائے گی۔ جہاز میں سنیکس مل جائیں گے۔ خاموش کرا دیا :cry: ۔ اور پھر جب جہاز میں سنیکس ملے تو میرے بس رونے کی کسر رہ گئی تھی۔ ایک عدد سادہ کیک جو بہت اچھی طرح پیک کیا گیا تھا جیسے کہ کبھی کسی نے اسے کھانا ہی نہیں ہے۔ کافی دیر انتظار کے بعد جب میں نے ایئر ہوسٹس سے چائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے شانِ بے نیازی دے جواب دیا کہ ڈومیسٹک فلائٹ میں چائے نہیں دی جاتی :humm مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتہائی پُر شفقت انداز میں پیشکش کی لیکن آپ کے لئے میں ابھی چائے لیکر آتی ہوں :shy: ۔ چائے کے چھوٹے سے کپ کے ساتھ میں نے وہ یادگار کیک کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بھائی صاحب سے بھرپور قسم کی جنگ کا پروگرام فائنل کیا۔ :hello

ملتان ایئرپورٹ بہت چھوٹا سا ہے۔
‘اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا’ کے مصداق ایک اور سفر کا آغاز ہوا۔ کیونکہ ہمیں ملتان شہر کے بجائے ‘عبدالحکیم’ جانا تھا۔ جو ملتان سے تقریباً دو اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ عبد الحکیم سے متعلق مجھے نیٹ سے کوئی معلومات نہیں مل سکیں اور جاتے ہوئے میں اس قدر تھک چکی تھی کہ نوٹس لے سکی نہ تصویریں۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ سدھنائی یا سندھانی نہر اسی راستے میں آئی تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو گئی۔ سو گرمی کی شدت کا بالکل اندازہ نہیں ہوا۔ ورنہ سب نے خوب ڈرا رکھا تھا کہ مارچ میں جون جولائی والی گرمی ملے گی۔ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد جو عمارتیں دکھائی دیں ان میں سرخ اینٹوں کے ساتھ نیلی ٹائلوں کا استعمال دکھائی دیا جو ملتان کے راویتی طرزِ تعمیر کا خاصہ ہے۔
اڑھائی گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد عبدالحکیم پہنچے تو کھانے کے بعد ایسا سوئے کہ اگلے دن کی خبر لی۔ دن کی گہماگہمی میں بھی عبدالحکیم میں سکون اور ٹھہراؤ محسو س ہوتا تھا۔ شہروں کے رش اور شور شرابے سے اُکتائے ہوئے لوگ اسی سکون کو ترستے ہیں۔ پھر یہ جان کر خالص دودھ اور سبزیاں اس دام سے بھی کم ملتی ہیں جس پر بڑے شہر والوں کو دودھ ملا پانی اور باسی پھل اور سبزیاں ملتی ہیں ، ہم لوگوں کا رشک حسرت میں بدل گیا :D عبدالحکیم میں وقت بہت تیزی سے گزرا کہ ہمیں دن دو بجے واپس ملتان کے لئے روانہ ہونا تھا اس لئے تصویریں نہیں لی جا سکیں۔ ہاں کھڈی کے وہ سٹال جو ہم لوگوں کے لئے لگایا گیا تھا ، سے خریدا گیا کھڈی کا کپڑا عبدالحکیم کی سوغات کے طور پر ہمارے ساتھ آیا۔ :smile
ایک بار پھر انہی راستوں سے گزرتے واپس ملتان پہنچے۔ چونکہ سارا دن بہت مصروف گزرا تھا ، کہیں بھی جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا حالانکہ میں بے صبری سے ملتان میں صوفیاء کے مزار دیکھنے کے انتظار میں تھی لیکن لوڈ شیڈنگ اور گرمی نے تھکن کو کئی گُنا بڑھا دیا اور اگلے دن کی مصروفیت کا سوچ کر ارادہ بدل لیا۔
اگلے دن اپنے کام سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے۔ آنٹیوں اور باجیوں کی پہلی ترجیح خریداری ہوتی ہے، وہ ہمیں بھی ساتھ گھسیٹ کر بازار لے گئیں۔ لالچ وہی کھڈیاں دکھانے کا دیا گیا۔ ملتان شہر کی تعمیرِ نو کی جا رہی ہے اس لئے عجیب و غریب راستوں سے گزر کر اس بازار پہنچا گیا جس کا راستہ ہماری اقامت گاہ سے صرف 15 منٹ کا بنتا تھا۔ البتہ منزل پر پہنچ کر کھڈیوں پر کپڑا بنتے دیکھ کر ساری کوفت ختم ہو گئی۔ گرمی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں کپڑا بُنتے محنت کش کو دیکھ کر ہنر مند ہاتھوں کی عظمت کا احساس ہوا۔ کپڑے کی خوبصورتی اور ڈیزائن دیکھ کر یہ بھی جانا کہ ہُنر کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد سب متاثرینِ کھڈی ، دکانوں کی طرف چل دیئے اور حسبِ روایت ایک ایک دکان پر گھنٹوں لگا کر شام کو لدے پھندے واپس آئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اصل اور انتہائی نفیس کھڈی پر بنا کپڑا بہت سستے داموں ملتا ہے۔ اس لئے سب نے گرمیوں کی تقریباً تمام شاپنگ یہیں سے کر لی۔ :smile
یہ انکل کھڈیوں پر کپڑا بُن رہے تھے۔ :cn
اگلی شام ملتان کی مشہور صنعت Blue Pottery دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن اس کی کہانی اور تصاویر اگلی قسط میں انشاءاللہ۔
blue pottery
تصویر کا حوالہ

Share/Save/Bookmark

388 بار پڑھا گیا۔
نومبر ۰۹ ، ۲۰۰۹ | مصنف: فرحت کیانی

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے(بالِ جبریل)

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے!

گلوکار: شوکت علی
————

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں (بالِ جبریل)

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردشِ خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن!
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

گلوکارہ: ثریا خانم
——

پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت سے کارناموں میں ایک ڈاکٹر محمد اقبال کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کرنا بھی ہے۔ لیکن یہ روایت شاید اب ختم ہو چکی ہے۔ ہر سال نومبر میں میں انتظار کرتی ہوں کہ شاید بھولے سے کوئی وہ انسٹرومنٹل ہی لگا دے جو ہمارے بچپن میں نومبر شروع ہوتے ہی اکثر سننے کو ملتا تھا ۔۔’شاعر ہے رہنما بھی ہے اقبال ہمارا’۔ لیکن :( ۔ کافی عرصہ سے انٹرنیٹ پر بھی تلاش جاری تھی۔ یوٹیوب کی بدولت ایک بار پھر یہ نغمہ سننے کو مل گیا۔ :)

ان دنوں ہوتا کچھ یوں ہے کہ علامہ اقبال کی نظم ‘ بچے کی دعا’ نئے سرے سے گائی اور فلمائی جاتی ہے لیکن تلفظ پر دھیان دینا بھول جاتا ہے :-( ۔ آخری مصرعے میں راہ اور رہ میں فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے (ربط)۔ ہماری اردو کی استاد مس چوہدری کو بہت غصہ آتا تھا جب کوئی بچہ راہ کو رہ بنا دیتا تھا۔ پچاس پچاس بار دونوں الفاظ دہرانے پڑتے :uff

Share/Save/Bookmark

341 بار پڑھا گیا۔
جون ۱۶ ، ۲۰۰۹ | مصنف: فرحت کیانی

یادش بخیر۔ اس ویڈیو نے کتنے ہی نام یاد کرا دیئے۔

سنگ سنگ چلیں، سہیل رانا، آنگن آنگن تارے، خلیل احمد :)

یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہماری آن اور ہماری عزت ہے اس کا پرچم
ہماری شان اور ہماری شوکت ہے اس کا پرچم
جبیں پہ اس کے یہ چاند تارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

اسے سجا کر ہم اپنی قسمت سنوار دیں گے
دمکتی کرنوں سے اس چمن کو نکھار دیں گے
یہ روشنی کا حسیں مینارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہم اپنی محنت سے اس کو رنگِ بہار دیں گے
جو وقت آیا تو اپنی جانیں بھی وار دیں گے
یہاں کا ہر پُھول، ہر شرارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

کلام: سیما سحر
گلوکار: نیرہ نور اور بچے
موسیقی: خلیل احمد

Share/Save/Bookmark

314 بار پڑھا گیا۔
دسمبر ۲۶ ، ۲۰۰۸ | مصنف: فرحت کیانی

Share/Save/Bookmark

449 بار پڑھا گیا۔
اکتوبر ۳۰ ، ۲۰۰۸ | مصنف: فرحت کیانی

او دیس سے آنے والے بتا! : عابدہ پروین

کلام: اختر شیرانی+ احمد فراز

او دیس سے آنے والے بتا

کس حال میں ہیں یارانِ وطن

وہ باغِ وطن فردوسِ وطن

او دیس سے آنے والے بتا

کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں

مستانہ ہوائیں آتی ہیں

کیا اب بھی وہاں کے پربت پر

گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں

کیا اب وہاں کی برکھائیں

ویسی ہی دلوں کو بھاتی ہیں

او دیس سے آنے والے بتا

وہ شہر جو ہم سے چھُوٹا ہے، وہ شہر ہمارا کیسا ہے

سب لوگ ہمیں پیارے ہیں مگر وہ جان سے پیارا کیسا ہے

او دیس سے آنے والے بتا

کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی

سر مست نظارے ہوتے ہیں

کیا اب بھی سہانی راتوں کو

وہ چاند ستارے ہوتے ہیں

ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے

کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں

او دیس سے آنے والے بتا

شب بزمِ حریفاں سجتی ہے یا شام ڈھلے سو جاتے ہیں؟

یاروں کی بسر اوقات ہے کیا ہر انجمن آرا کیسا ہے

او دیس سے آنے والے بتا

کیا اب بھی مہکتے مندر سے ناقوس کی آواز آتی ہے

کیا اب بھی مقدس مسجد پر مستانہ اذان تھراتی ہے

کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر

پنہاریاں پانی بھرتی ہیں

انگڑائی کا نقشہ بن بن کر

سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں

اور اپنے گھر کو جاتے ہوئے

ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں

او دیس سے آنے والے بتا

مہران لہو کی دھار ہُوا

بولان بھی کیا گُلنار ہوا

کس رنگ کا ہے دریائے اٹک

راوی کا کنارہ کیسا ہے

اے دیس سے آنے والے مگر تم نے تو نہ اتنا بھی پوچھا

وہ کَوی جسے بن باس ملا، وہ درد کا مارا کیسا ہے

او دیس سے آنے والے بتا

کیا اب بھی کسی کے سینے میں

باقی ہے ہماری چاہ بتا

کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے

اب یاروں میں کوئی آہ! بتا

او دیس سے آنے والے بتا

للہ بتا للہ بتا

او دیس سے آنے والے بتا

Share/Save/Bookmark

236 بار پڑھا گیا۔
اکتوبر ۰۹ ، ۲۰۰۸ | مصنف: فرحت کیانی

8 اکتوبر 2005 کی اُس صبح میں نے پہلی بار جانا کہ اپنی طرف بڑھتی آنے والی موت کی آہٹ کا احساس کیسا ہوتا ہے!

 

Share/Save/Bookmark

613 بار پڑھا گیا۔
اگست ۲۹ ، ۲۰۰۸ | مصنف: فرحت کیانی

کل پاکستان اپنی کزن کی بیٹی سے بات ہوئی تو اس کا پہلا شکوہ تھا۔۔‘خالہ! میں آپ کو اتنے ایس ایم ایس کرتی ہوں ۔ آپ جواب دے دیتی ہیں لیکن خود سے ایسے اچھے اچھے ایس ایم ایس کیوں نہیں کرتیں۔‘ اس کو تو میں نے مطمئن کر دیا لیکن تب سے یہی سوچ رہی ہوں کہ ہمارے یہاں موبائل فون سہولت اور ضرورت سے زیادہ ایک ایسی تفریح بن گیا ہے جو وقت اور پیسے کا ضیاع بھی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کام کی بات ہو تو بندہ کچھ کہے بھی۔  اب فارورڈڈ ٹیکسٹ میسجز کا کیا جواب دیا جائے۔ اور جب آپ کو تھوک کے حساب سے ایسے میسجز ملیں تو کیا کریں؟ پاکستان میں تو مجھے یہی فکر لگی رہتی تھی کہ اگر کسی کو جواباً کوئی اچھا سا ٹیکسٹ نہ بھیجا گیا تو شدید ناراضگی کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح ایک اور بیماری ‘مسڈ کال‘ دینے کی ہے۔ خصوصاً بچہ پارٹی میں۔ ہر وقت فون ہاتھ میں ہے اور مسڈ کالز دی جا رہی ہیں۔ آدھی بیل گئی اور کاٹ دی۔۔ ستم یہ کہ اس عمل کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ اگلا بندہ مصروف ہوگا، سو رہا ہوگا یا کسی ایسی جگہ پر بھی ہو سکتا ہے جہاں فون اس طرح بار بار بجنا اس کے لیے خفت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ویسے بچوں کے علاوہ اچھے خاصے سمجھدار لوگوں کو بھی میں نے ایسا کرتے دیکھا ہے۔ ہماری ایک رشتہ دار کی عادت تھی کہ ایسے وقت میں رنگ کرتی تھیں کہ بندہ سوچ بھی نہ سکتا کہ شرارت کی جا رہی ہے۔ سب شش و پنج میں پڑ جاتے تھے کہ معلوم نہیں واقعی فون کر رہی ہیں یا ڈمب کال ہے۔ نتیجہ یہ کہ اگر فون سن لو تو فوراً شکوہ کہ یہ تو مسڈ کال تھی۔ فون اٹینڈ کیوں کیا؟ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ نہیں اٹینڈ کیا تو بعد میں خبر لی کہ اتنا ضروری کام تھا فون کر رہی تھی سُنا کیوں نہیں!!

ایسی بےسروپا حرکتوں کی وجہ سے کسی کا کتنا بڑا نقصان ہو سکتا ہے اس پر ہم لوگوں نے شاید کبھی غور نہ کیا ہو۔ مجھے پہلے بھی اس بات سے چڑ تھی اور اب ایک انتہائی تکلیف دہ تجربے سے گزرنے کے بعد تو مجھے اس حرکت پر شدید غصہ آتا ہے۔ تقریبا٘ ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے۔ میری ایک کزن کی عادت تھی کہ رات کو جب تک سوتی نہ ,سب کو بیلز دیتی رہتی تھی۔ مجھے کیونکہ صبح جلدی اٹھنا ہوتا تھا اس لیے جلدی سو جاتی تھی۔ اب سوتے ہوئے اگر فون بج گیا اور نیند ٹوٹ گئی تو میں دوبارہ سو نہیں‌ سکتی اور میرے سر میں انتہائی شدید درد بھی ہونے لگتا ہے۔ سو میں نے حل یہ نکالا کہ رات کو فون سائلنٹ موڈ پر کر دیتی تھی۔ اس صبح اتفاق سے میری آنکھ معمول سے کافی پہلے کھل گئی ٹائم دیکھنے کے لیے فون اٹھایا تو ابو کی دو کالز تھیں۔ جو کہ غیرمعمولی بات تھی۔ نیچے بھاگی تو ابو کو نڈھال سا جاگتے ہوئے پایا۔ اماں کچن میں ابو کے لیے کچھ بنا رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساری رات ابو بےچین رہے ہیں۔ اتفاق سے ایک دن پہلے اماں کی طبیعت بھی کافی خراب تھی اور اس رات وہ بھی مسکن دوا کے زیرِ اثر تھیں اس لیے وہ اٹھ بھی نہیں سکیں۔ مزید ستم یہ کہ بھائی بھی آفس کے کام سے شہر سے باہر تھے۔ علامات سے مجھے شک ہوا کہ شاید انجائنا کا مسئلہ ہے۔ بھائی کو فون کر کے بتایا۔ ڈاکٹر کو بلایا۔ ہاسپٹل گئے اور معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ لیکن ابو کی اچھی صحت اور قوتِ ارادی کی وجہ سے انہوں نے پوری رات اس درد کو برداشت کر لیا۔ انہیں صحت کی طرف سے کبھی کوئی ہلکا سا مسئلہ بھی نہیں ہوا تھا اس لیے وہ یہی سمجھتے رہے کہ یونہی ذرا سی طبیعت خراب ہے۔ اور کسی کو نہیں جگایا۔ میرا کمرہ بھی اوپر ہے۔ شاید کسی وقت بہت تکلیف میں ابو نے میرا نمبر ملایا ہوگا لیکن مجھے کیا پتہ چلتا، میرا فون تو خاموش تھا :( وہ دن میری زندگی کا سب سے برا دن تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم پرکرم کیا اور خیریت رہی لیکن میں اب بھی اکثر سوچتی ہوں کہ اگر میرا فون سائلنٹ پر نہ ہوتا تو ابو کو اتنی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی :(

اور اس واقعے کے بعد خاندان کے ایسے تمام موبائل ہولڈر بچوں، بڑوں کی تو میں نے وہ کلاس لی کہ اب کوئی بھول کر بھی ایسا نہ کرتا ہوگا لیکن مجھے لگتا ہے کہ فضول میں ٹیکسٹ میسجز کرنا اور مس کالز دینا اکثر لوگوں کی ایک عام عادت بن گئی ہے۔

Share/Save/Bookmark