
میرے عزیز ہموطنو!
آپ سے خطاب کرتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے
۔ پاکستانی عوام اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں (ویسے مشکل دور ہمیشہ عوام کے لئے ہی ہوتا ہے) ۔ سیلاب کی آفت نے لاکھوں گھر اُجاڑ دیئے ہیں اور کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ہمیں اس وقت اپنا آپ اپنے لوگوں کے لئے قربان کرنا ہے۔ میں اور میرے بچے تو پہلے ہی قربانی دے چکے ہیں محترمہ شہید بی بی کی شہادت کی صورت میں۔ اس لئے معذرت کے ساتھ میں اس وقت آپ کو کچھ پیش نہیں کر سکتا
۔ آج آپ لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر مجھے اپنا اجڑا ہوا گھر یاد آگیا ہے۔ میرے لئے آپ لوگوں کو اس حال میں دیکھنا بہت مشکل ہے
۔ یہ سیلاب تو ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا
۔ ہم قدرتی آفتوں اور مشیتِ ایزدی کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ہاں جو ہمارے اختیار میں ہے ہم وہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے بن ماں کے بچوں کے ساتھ کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مجھے یہ تکلیف دہ منظر دکھائی نہ دیں
۔ آپ لوگ اپنا خیال رکھئے گا اور اگر ممکن ہو تو آپ بھی بیرونِ ملک دوروں پر نکل جائیں۔
محفوظات بہ لحاظ زمرہ جات » سیاست «
139 بار پڑھا گیا۔تصویر دیکھ کر ذہن میں بہت سے خیالات آ رہے ہیں لیکن ابھی اہم بات یہ ہے کہ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پہلی تصویر ہے جس میں زرداری انکل اپنی ‘مخصوص مسکراہٹ’ کے بغیر نظر آ رہے ہیں
۔معلوم نہیں کیوں
وزیر کا فرمان
لوگوں مجھے سلام کرو، میں وزیر ہوں
گردن کے ساتھ خود بھی جھکو، میں وزیر ہوں
گردن میں ہار ڈال دو میں جُھک سکوں اگر
نعرے بھی کچھ بلند کرو، میں وزیر ہوں
تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورہ پر آؤں جب
موٹر کے ساتھ ساتھ چلو، میں وزیر ہوں
لکھے ہیں شاعروں نےقصائد مرے لیے
ایک آدھ نظم تم بھی کہو، میں وزیر ہوں
جو مجھ سے کہنے آؤ خبردار مت کہو
جو کچھ میں کہہ رہا ہوں سنو، میں وزیر ہوں
معذور ہوں میں اپنی وزارت سے بے طرح
تم طرحدار مجھ کو کہو، میں وزیر ہوں
بے شک ہے برہمی سے مری گفتگو کے بیچ
لیکن ادب سے بات سنو، میں وزیر ہوں
میں وہ نہیں کہ یوسفِ بے کارواں پھروں
میرا جلوس لے کے چلو، میں وزیر ہوں
اخبار والو سوچ سمجھ کر کرو سوال
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو، میں وزیر ہوں
مجھ سے قرابتوں کو بس اب بُھول جاؤ تم
اے میرے بھائی بند گدھو، میں وزیر ہوں
مجھ کو تو مل گئی ہے وزارت کی زندگی
مرتے ہو تم تو جاؤ مرو، میں وزیر ہوں
شوکت تھانوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا مظہر العجائب
رونے کی گرچہ بات ہے آتی ہنسی بھی ہے
بے محکمہ وزیر ہے اور مرکزی بھی ہے
از انور مسعود
Just loving it
(Original track by Harry Chapin)
The little boy went first day of school
He got some crayons and started to draw
He put colors all over the paper
For colors was what he saw
And the teacher said.. What you doin’ young man
I’m paintin’ flowers he said
She said… It’s not the time for art young man
And anyway flowers are green and red
There’s a time for everything young man
And a way it should be done
You’ve got to show concern for everyone else
For you’re not the only one
And she said…
Flowers are red young man
Green leaves are green
There’s no need to see flowers any other way
Than they way they always have been seen
But the little boy said…
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one
Well the teacher said.. You’re sassy
There’s ways that things should be
And you’ll paint flowers the way they are
So repeat after me…..
And she said…
Flowers are red young man
Green leaves are green
There’s no need to see flowers any other way
Than they way they always have been seen
But the little boy said…
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one
The teacher put him in a corner
She said.. It’s for your own good..
And you won’t come out ’til you get it right
And are responding like you should
Well finally he got lonely
Frightened thoughts filled his head
And he went up to the teacher
And this is what he said.. and he said
Flowers are red, green leaves are green
There’s no need to see flowers any other way
Than the way they always have been seen
Time went by like it always does
And they moved to another town
And the little boy went to another school
And this is what he found
The teacher there was smilin’
She said…Painting should be fun
And there are so many colors in a flower
So let’s use every one
But that little boy painted flowers
In neat rows of green and red
And when the teacher asked him why
This is what he said.. and he said
Flowers are red, green leaves are green
There’s no need to see flowers any other way
Than the way they always have been seen.
But there still must be a way to have our children say . . .
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one
وزیرِ اعظم نے
پی ٹی وی کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد مسعود کا استعفیٰ منظور کر لیا (آج ٹی وی)۔
یعنی بالآخر جیت شیری رحمان کی ہوئی۔
تین نومبر کا دن میرے لئے خوشیاں لے کر آیا ہے۔ ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔ شاہد مسعود (ظاہر ہے یہ تو کہنا ہی ہے آخر کو وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی جو مقرر ہو گئے ہیں۔ جب وزیرِ مملکت کے برابر عہدہ مل جائے تو پی ٹی وی کے ایم ڈی کا عہدہ کس کو بھائے گا
یااللہ! پاکستان پر اپنا رحم فرما۔ آمین
ابھی آج ٹی وی پر ‘کرن اور جارج شو’ آ رہا ہے اور آج کا سوال ہے۔۔’کونسی چیز آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لاتی ہے؟’۔۔۔۔ اتفاق کی بات کہ اسی دوران مجھے یہ خبر ملی۔۔ ۔خبر یقیناًّ مسکرانے پر مجبور کرتی ہے۔۔۔ استہزائیہ مسکراہٹ ہی سہی۔۔۔۔

دی نیوز کے مطابق اے۔۳۱۰ کا خصوصی طیارہ چکلالہ پہنچ سکا ہے جو سپیشل سواریوں کو ایک ہمسایہ ملک تک لیکر جائے گا۔ اور راولپنڈی کی ایک اہم رہائشگاہ سے جانے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔۔۔اگرچہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر صاحب کے قریبی ذرائع اس خبر کی تردید کر رہے ہیں۔۔ایسی ہی ایک تردید نثار میمن نے بھی کی ہے۔۔ ۔ظاہر ہے برا وقت اتنی جلدی کہاں ٹلتا ہے اور اب تو بش انکل نے بھی فون کر کے حوصلہ بڑھا دیا یے ۔۔۔ :( ۔۔۔پھر بھی یہ خیال کہ آخرکار رسی کھنچنے کا وقت آ پہنچا ہے ۔۔۔دل کو خوش کرنے کے لئے کافی ہے۔۔۔۔
واؤ لگتا ہے آج تو ایک کے بعد ایک مسکرانے پر مجبور کرنے والی خبریں موجود ہیں۔۔۔ ابھی ابھی تازہ خبر ملی ہے کہ محسنِ کشمیر(سنگھ) کو بھارت سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔۔۔ بحوالہ ‘آج’ نیوز
ایک اور ایسی ہی خبر۔۔۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے پی ٹی وی جوائن کر لیا ہے۔۔۔بحوالہ پاکستان پالیٹکس
کل ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور آج ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر تشدد۔ مقام اور تشدد کرنے والے مختلف لیکن واقعات دونوں یکساں۔ میری نظر میں یہ دونوں واقعات ہماری قومی سوچ میں بتدریج رونما ہونے والی تبدیلی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ‘ذرائع ابلاغ’ نے جس طرح حالات، واقعات اور شخصیات کو exploit کرنا شروع کیا ہے اسی نہج پر وکلاء نے چلنا شروع کر دیا ہے۔ یقیناً ذرائع ابلاغ اور وکلاء تحریک نے ملک پر طاری جمود کی کیفیت کو توڑنے اور حالات کو بدلنے میں اہم اور کسی حد تک مثبت کردار ادا کیا ہے لیکن اس مثبت کردار کو منفی ہونے میں چنداں دیر نہیں لگتی۔۔اور یہی اب پاکستان میں ہو رہا ہے۔ ‘کچھ’ ہونے کے زعم میں لوگ اور ادارے بعض اوقات اعتدال کی حدود کو پھلانگ کر ایسے راستے پر چل نکلتے ہیں جو مقصد کی تباہی کی طرف جاتا ہے۔ آج ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر تشدد اسی طرف اشارہ ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ سارے کیے کرائے پر پانی پھرنا تو آج کا واقعہ اس کی درست عکاسی کرتا ہے۔ افسوس ہے میڈیا کے لوگوں پر جنھوں نے بیرسٹر اعتزاز احسن کی بار بار درخواست پر بھی کیمرے بند کرنے سے انکار کر دیا اور حیف ہے ملک کے ‘دانشور’ وکلاء پر جن کے خیال میں ایک بے بس اور بیمار انسان پر اس طرح کا حملہ ان کے سینے پر ایک ‘تمغے’ کی طرح سج جائے گا۔ افسوس صد افسوس۔ اگر قانون اور انصاف کے لئے لڑنے والوں کے نزدیک جزا و سزا کا پیمانہ یہ ہے تو پھر حالات میں بہتری اور عدل پسند معاشرے کا خواب کو اللہ حافظ
ارباب رحیم اور شیر افگن نیازی سمیت پچھلے دورِ حکومت کے تمام زعماء سزا کے قابل ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا سلوک ایک مہذب قوم کو زیب دیتا ہے؟
حب الوطنی کو زنگ کیوں لگ گیا؟
‘فوجی اور سول بیوروکریٹس نے باہم گٹھ جوڑ کر لیا کہ لوگوں کو اپنے معاملات کے انتظام میں شریک نہیں کریں گے۔ اس سے جنم لینے والی مایوسی اور محرومی نے حب الوطنی کے ان جذبات کو زنگ آلود کر دیا جو لوگوں کو جرائم ؐکے ارتکاب اور قانون شکنی کے خلاف نبرد آزما ہونے پر ابھارتے ہیں۔ ملک سے محبت اور اس کے قوانین پر عمل میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ محبت میں کمی واقع ہو جائے تو وہ لاقانونیت پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے۔’
‘ دولت کمانے کا خبط تفریحی میڈیا کو گنوار پن اور فحاشی کی طرف لے گیا۔ میڈیا خصوصاً فلموں، درآمد کردہ فلموں اور مغربی سٹائل میں ڈھالے گئے میوزک، مقامی نیز درآمد کردہ اخبارات، رسائل اور کتابوں نے اخلاقی پابندیوں کو کمزور اور معاشرتی اقدار کو انحطاط پذیر کرنے کی راہ ہموار کی۔ میڈیا اپنی اصلی سمت بھول گیا۔ اس نے اقدار کو تقویت پہنچانے کی بجائے برائیوں کے خلاف معاشرتی فصیلوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔’
‘جب حکومتیں اپنے مخالفین سے نمٹنے کے لئے آمرانہ اور غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے لگیں اور قانون نیز عدالتوں کے ذریعے انصاف ملنا ناممکن ہو جائے تو انصاف سے محرومی قانون کی خلاف ورزی بلکہ اندرونی دہشت گردی کا باعث بن جاتی ہے جو واحد عملی متبادل ہوتا ہے۔ عوامی سطح پر احتجاج اور تحریکیں شروع ہو جاتی ہیں جو تشدد اور دہشت گردی کا موجب بنتی نہیں یہاں تک کہ کود حکومت کا دھڑن تختہ ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے اقتدار کے احترام پر زد پڑتی ہے۔ وہ جرائم پیشہ لوگوں کےلئے سنہری موقع ہوتا ہے۔ جو سیاسی سرگرمیوں کی آڑ میں خوب ہاتھ رنگتے ہیں۔’
از سردار محمد چوہدری
۔۔۔’جہانِ حیرت؛ ایک سابق انسپکٹر جنرل پولیس کی خودنوشت’ سے اقتباسات ۔۔(باب 48؛ ‘اسباب کی دنیا’ )







حالیہ تبصرے